Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

’میرے بچے خریدلو‘، پولیس اہلکار پریس کلب پہنچ گیا

کراچی(ویب ڈیسک )کراچی کی سینٹرل جیل میں تعینات سپاہی اپنے بچے فروخت کرنے کراچی پریس کلب پہنچ گیا۔

وحید نامی سپاہی کا کہنا تھا کہ 3 مہینے سے میری تنخواہ بند کردی گئی ہے، میرے 9 بچے ہیں، 4 بیچنے کیلئے لایا ہوں۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ میں ملیر جیل میں تعینات تھا، پولیس کوارٹر میں ہی رہائش ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل نے میرا ٹرانسفر سینٹرل جیل کرادیا اور 3 مہینے سے میری تنخواہ بھی بند کرادی ہے۔

سپاہی وحید نے کہا کہ مجھے فوری طور پر سرکاری رہائشگاہ خالی کرنے کا کہا جارہا ہے، میرے پاس رقم نہیں ہے کہ میں کچھ کرسکوں، میں رات کی ڈیوٹی کرتا ہوں، میرے گھر والوں کو تنگ کیا جارہا ہے، میری غیرموجودگی میں آکر میرے گھروالوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔

پولیس اہلکار وحید کا مزید کہنا تھا کہ میری سپریم کورٹ اور اعلیٰ افسران سے نوٹس لینے کی اپیل ہے۔

دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔

ارشد شاہ کا مؤقف ہے کہ سپاہی وحید کو شکایات پر سینٹرل جیل ٹرانسفر کیا گیا ہے، وحید کو مئی میں سینٹرل جیل ٹرانسفر کیا گیا، اس کے خلاف مس کنڈکٹ کے علاوہ علاقہ مکینوں نے بھی شکایت کی تھی۔

سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل نے مزید کہا کہ پولیس کا اہلکار جس جیل میں ٹرانسفر ہوگا اسکی رہائش بھی وہیں ہوگی، وحید کو سرکاری گھر خالی کرنے کیلئے 2 ماہ سے نوٹس دیا ہے، تنخواہ روکنے کے عمل میں میرا کوئی عمل دخل نہیں، سپاہی وحید کی تنخواہ اب سینٹرل جیل کے اکاؤنٹ سے جاری ہوگی۔

مزیدپڑھیں :کیا برطانیہ کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں قابل قبول ہے؟

یہ بھی پڑھیں