پشاور(نیوزڈیسک) اسلامیہ کالج پشاور، جسے 2008 میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا میں طلباء کے داخلوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا جن کی تعداد 2,000 سے بڑھ کر 8,000 ہزار تک پہنچ گئی ہے. ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد 10,000 کے قریب پہنچ چکی ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یونیورسٹی میں توسیعی منصوبے شروع کیے جو پانچ سال بعد بھی نامکمل ہیں
لائبریری کی نئی عمارت کی تعمیر 2017 میں شروع ہوئی جس کا ابتدائی بجٹ 126 ملین روپے تھا تاہم پانچ سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔ عمارت کا سرمئی ڈھانچہ اب بھی نامکمل کھڑا ، تعمیراتی سامان پورے احاطے میں بکھرا پڑا ہے جو اس تاریخی ادارے کے وقار کو مجروح کر رہا ہے۔
طویل تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت 157 ملین روپے تک بڑھ گئی ۔ جاری تعمیراتی تاخیر کے باعث طلباء پریشانی کا شکار، ماحولیاتی آلودگی سے تنگ اآچکے ،یونیورسٹی کی موجودہ لائبریری میں توسیع پذیر طلباء کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیےناکافی ہے ۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کی انتظامیہ نے اس معاملے پر کافی حد تک خاموش تماشائی،منصوبے کی تکمیل میں طویل تاخیر کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ لائبریری کی توسیع کے علاوہ دیگر اہم سہولیات بشمول تحقیقی مراکز اور اکیڈمک کلاس رومز بھی گزشتہ پانچ سالوں سے زیر تعمیر ہیں۔
پشاوربڑی تباہی سے بچ گیا، موٹرسائیکل سوار خود کش جیکٹ پھینک کر فرار



