Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

دعا بھٹو نے سات سال بعد حلیم عادل شیخ سے راہیں جدا کرلیں

کراچی(ویب ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق رکن سندھ اسمبلی طاہرہ عرف دعا بھٹو نے سات سال بعد پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ سے راہیں جدا کرلی ہیں۔

سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے طاہرہ عرف دعا بھٹو کی حلیم عادل شیخ سے خلع کی درخواست منظور کرلی ہے۔

سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کراچی نے دعا بھٹو کی جانب سے دائر خلع کی درخواست پر سماعت کی اور دعا بھٹو کی جانب سے دائر خلع کی درخواست منظور کرلی۔

سابق رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ سے سات سال بعد راہیں جدا کی ہیں اور سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقین کے درمیان مصالحت کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔

عدالت نے بچے کے اخراجات کی مد میں حلیم عادل شیخ کو 24 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے، اور بچے کے اخراجات سے متعلق سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

دعا بھٹو کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ حلیم عادل شیخ مجھے اخراجات ادا نہیں کررہے تھے لہٰذا ان کے ساتھ میں مزید زندگی نہیں گزارنا چاہتی اور حلیم عادل میرے بیٹے کو بھی کسی قسم کے اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

سابق رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ سے سات سال بعد راہیں جدا کی ہیں اور سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقین کے درمیان مصالحت کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔

عدالت نے بچے کے اخراجات کی مد میں حلیم عادل شیخ کو 24 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے، اور بچے کے اخراجات سے متعلق سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

دعا بھٹو کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ حلیم عادل شیخ مجھے اخراجات ادا نہیں کررہے تھے لہٰذا ان کے ساتھ میں مزید زندگی نہیں گزارنا چاہتی اور حلیم عادل میرے بیٹے کو بھی کسی قسم کے اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سابق رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو نے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ سے سات سال بعد راہیں جدا کی ہیں اور سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقین کے درمیان مصالحت کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔

عدالت نے بچے کے اخراجات کی مد میں حلیم عادل شیخ کو 24 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے، اور بچے کے اخراجات سے متعلق سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

دعا بھٹو کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ حلیم عادل شیخ مجھے اخراجات ادا نہیں کررہے تھے لہٰذا ان کے ساتھ میں مزید زندگی نہیں گزارنا چاہتی اور حلیم عادل میرے بیٹے کو بھی کسی قسم کے اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مزیدپڑھیں :جنریشن زی نے کاروبار میں ملینئیلز کو پیچھے کیسے چھوڑا

یہ بھی پڑھیں