Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

پارلیمنٹ کے احاطے سے گرفتاری: خواجہ آصف کا کمیٹی سے بائیکاٹ ، ’میں اس کمیٹی کا ممبر ہی نہیں بنتا‘

اسلام آباد(ویب‌ڈیسک )پارلیمنٹ کے احاطے سے ممبران اسمبلی کی گرفتاریوں پر محمود خان اچکزئی، خواجہ آصف سمیت دیگر نے خصوصی کمیٹی میں اظہار خیال کیا ۔ تمام معزز ممبران نے خصوصا مولانا فضل الرحمن اور عمر ایوب کو خوش آمدید کیا ۔

محمود خان اچکزئی کا خصوصی کمیٹی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے ایک واضح پیغام جانا چاہیئے کہ ہماری نہ کسی ادارے سے دشمنی ہے نہ کسی جماعت سے ،خوشی ہے کہ سب جماعتیں آج ایک جگہ جمع ہو گئیں

انھوں نے کہا کہ جو ہوا سو ہوا، کمزوری ہے کہ جتنے ادارے ہیں انکی آپس میں پیٹی بندی ہے۔ چاہے فوج ہو ، عدلیہ ہو یا کوئی اور ادارہ بس سیاست دان بچارے پیٹی بندی نہیں ہیں ۔ سیاستدانوں کے اتحاد کا نتیجہ مثبت نکلتا ہے، بس اداروں کو یہ بتانا ہے کہ ہمارا سیاسی اکٹھ آپ کے خلاف نہیں ہے اگر ہم سب ایک ہو جائیں تو تہتر میں جو بھی منفی شقیں ہیں ، جو بھی لایا ہے اس غلاظت کو صاف کر دیں ہم سب چاہیں تو ایک گھنٹے میں ہو جائے گا نہ ہم نے کسی ادارے کی بے عزتی کرنی ہے نہ کسی کو نیچا دکھانا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو وقعت اور آئین کی بالادستی پارلیمان میں موجود ہر جماعت چاہتی ہے جب بھی سیاستدان متحد ہوئے ، بےنظیر شہید اور نواز شریف اکٹھے ہوئے ، اچھے فیصلے ہوئے میں چاہوں گا کہ مولانا فضل الرحمن اور عمر ایوب کو بھی کمیٹی کا ممبر بنایا جائے۔

جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں ناراض نہیں ہوں مجھے بھی ممبر بنا لیں ۔ چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ اسپیکر صاحب سے کہتے ہیں کہ ممبر بنایا جا سکے تو اچھا ہو گا۔

خواجہ آصف نے کمیٹی سے بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں اس کمیٹی کا ممبر ہی نہیں بنتا جس پر مولانا فضل الرحمان نے خواجہ آصف کو واپس بیٹھنے کا کہ دیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کوئی بات نا ہوئی ایک سائیڈ سے تنقید ہوں، پی ٹی آئی نے چار سال کیا کیا، نوازشریف منت کرتا رہا میری بیوی بیمار ہے، میری کال پر بات کروادیں، یہ کیا بات ہوئی تب سب ٹھیک تھا اب سب غلط ہے

جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ والی بحث اسمبلی میں کریں ۔

خواجہ آصف نے ایک بار پھر مائک سنبھالا اور کہا کہ میں سینٹ الیکشن میں پروڈکشن آرڈر پر ایوان آیا تھا ، میں اپوزیشن لیڈر چیمبر میں موجود تھا مجھے جنرل فیض کا فون آیا مجھے کھا گیا کہ اپ کے تین ووٹ ہے گیلانی کے خلاف دینے ہیں تب اپ لوگ نشے میں تھے تب اپکو سب ٹھیک لگ رہا تھا۔

تما م تر بحث کے بعد مولانا فضل الرحمان اور عمر ایوب کو کمیٹئ کا ممبر بنادیا گیا ، چئیرمین خورشید شاہ نے اجلاس صبح دوبارہ طلب کر لیا خصوصی کمیٹی کا اہم اجلاس کل دوپہر 12 بجے ہو گا۔

واضح رہے کہ سپیکر ایاز صادق نے گرفتاریوں کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی لائٹس بند ہونے پر پارلیمنٹ میں کام کرنے والے سی ڈی اے کے پانچ اہلکاروں ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہیں معطل کرکے پارلیمنٹ سے تبدیل کرنے کی کرنے کی ہدایت بھی کی۔

اسپیکر ایاز صادق نے کمیٹی سارجنٹ ایٹ آرمز اشفاق احمد کی سربراہی میں تشکیل دی ہے۔ جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمنٹ سے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی گرفتاریوں پر ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کی ہے جس کا اجلاس آج ہوا تھا ۔
مزیدپڑھیں :بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والی رقم میں اضافے کا اعلان

یہ بھی پڑھیں