کے الیکٹرک کے ماہانہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے نیپرا کی سماعت میں مختلف اہم نکات سامنے آئے ہیں:
سرمایہ کاروں کا اعتماد: رفیق احمد شیخ، ممبر نیپرا، نے کہا کہ کے الیکٹرک کے قابل تجدید توانائی منصوبوں کی حالیہ بولی نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کو بڑھایا ہے۔
ریکارڈ کم ٹیرف: کے الیکٹرک کے CFO، عامر غازیانی، نے بتایا کہ حالیہ بولی میں 3.8 سینٹ کی ریکارڈ کم ٹیرف حاصل ہوا، جو کہ قابل تجدید توانائی منصوبوں کے لیے سب سے کم ہے۔
ماضی کی ناکام کوششیں: انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے زیر اہتمام سابقہ بولی کے عمل نے کسی بھی مثبت جواب کو راغب کرنے میں ناکامی دکھائی۔
پاور پلانٹس کی کارکردگی: عامر غازیانی نے وضاحت کی کہ نجکاری کے بعد پاور پلانٹس کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی کی گئی تھی۔
انفراسٹرکچر کی ترقی: کے آئی اور دھابیجی گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر ریکارڈ وقت میں مکمل ہوئی ہے، جو کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی کی ایک مثال ہے۔
بجلی کی بلا تعطل فراہمی: کیپٹو پاور پلانٹس صنعتی صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کر رہے ہیں۔
ملٹی ایئر ٹیرف کا فیصلہ: ریحان جاوید، صنعت کار، نے کہا کہ کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف میں تاخیر ہورہی ہے، جس کا حتمی فیصلہ دینا ضروری ہے۔
مقامی گیس کی دستیابی: عامر غازیانی نے کہا کہ اگر دو سو ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس دستیاب ہو جائے تو اس کے فوائد صارفین تک منتقل ہوں گے، اور اگر لوکل گیس مل گئی تو سبسڈی صفر ہو جائے گی۔
سبسڈی کا وضاحت: انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ کے الیکٹرک کو سبسڈی نہیں مل رہی بلکہ یہ صارفین کے فائدے کے لیے ہے۔
حکومت پر کوئی بوجھ نہیں: آخر میں، عامر غازیانی نے یہ بات دہرائی کہ حکومت پاکستان کو کے الیکٹرک کی طرف سے کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا۔
یہ تمام نکات کے الیکٹرک کے مستقبل کے منصوبوں اور ان کی ترقی کی سمت کی عکاسی کرتے ہیں، خاص طور پر قابل تجدید توانائی کے شعبے میں۔



