پاکستان کے تنخواہ دار افراد نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 111 بلین روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، جو کہ تاجروں کے مقابلے میں 1,550% زیادہ ہے۔ یہ رقم گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 56% کا اضافہ ظاہر کرتی ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقے نے اسی عرصے میں 71 بلین روپے کا ٹیکس دیا تھا۔
حکومت کی جانب سے تنخواہ داروں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی موثر ٹیکس کی شرح 39% سے 50% تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس، تاجروں کی جانب سے ایف بی آر کو صرف 6.7 بلین روپے کی ادائیگی ہوئی، جو کہ حکومتی ٹارگٹ سے کہیں کم ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا، جبکہ تاجروں کے ٹیکسوں میں کمی کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں بھی انکشاف ہوا ہے کہ حکومت مزید بوجھ تنخواہ دار افراد پر ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس ادائیگی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ تاجروں کی ٹیکس ادائیگی میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اس صورتحال نے تنخواہ دار طبقے میں بے چینی پیدا کی ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔


