Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

لوگوں کو بلیک میل کرکے ووٹ لینا،یہ عمل درست نہیں،بل پاس ہوا تو یہ جمہوریت پر دھبہ ہوگا،علی ظفر

اسلام آباد (نیوز   ڈیسک)پی ٹی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ آئین لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے جدا نہیں کرتا ۔ آئین پر اتفاق رائے نہیں ہوتا وہ آئین مر جاتا ہے ۔ 1956 کے آئین میں قوم کو اتفاق رائے نہیں تھا ۔

1962 کے آئین قوم کا اتفاق رائے نہیں تھا جو اپنی موت مر گیا ۔ دو حکومتیں آئین کے آرٹیکل 58 کا شکار ہوئی ہیں ۔ ہمارے ساتھی گرفتاری کے خوف کی وجہ سے نہیں آئے ۔ آئینی ترمیم کے لیے لوگوں کو زدو کوب کرکے ووٹ دینے کا عمل ہے لوگوں کی رضا مندی شامل نہیں ۔
یہ عمل آئین اور جمہوریت کے خلاف ورزی ہے۔ انصاف اور آئین کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ کچھ ہمارے ساتھی آئے نہیں ڈر ہے اغوا ہوجائیں گے۔ کچھ کو شاہد اغوا کرلیا گیا جو ووٹنگ کے وقت لائے جائیں گے۔ لوگوں پر ظلم ڈھا کر ووٹ لینے کا طریقہ کار چل نکلا ہے۔
لوگوں کو بلیک میل کرکے ووٹ لینا،یہ عمل درست نہیں ۔ نا صرف یہ آئین اور جمہوریت کے خلاف ہے بلکہ مذہب کے خلاف ہے۔ کسی پر زبردستی کرکے آمادگی نہیں لے سکتے۔ میرے پاس ایک ڈاکومنٹ ہے، جس میں ہم نے فیصلہ کیا کہ کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
اس ڈاکومنٹ پر میں نے تمام پی ٹی آئی کے سینیٹرز کے دستخط لیے ہیں۔ اگر کوئی پی ٹی آئی کا سینیٹر ووٹ کاسٹ کرے گا تو اسے آپ گنتی میں شامل نہ کریں۔ ہم ہر پارلیمانی کمیٹی میں سننے، بیٹھنے کے لیے گئے، ہم نے اپنی کوئی تجویز نہیں دی۔

میرے پاس گواہان موجود ہیں، اگر آپ کہیں گے تو میں پیش کردوں گا۔ ہم اس پروسیس کا حصہ اس لیے نہیں بن رہے کیوں کہ بانی پی ٹی آئی سے ہمیں مشاورت نہیں کرنے دی گئی۔ آئین میں ترمیم عوام کے مفاد کے لیے ہوتی ہے۔
ایوان میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس بل کو پڑھا تک نہیں ہے۔ اس طرح بل پاس ہوا تو یہ جمہوریت پر دھبہ ہوگا۔ ہ جو بل کا ڈاکومنٹ دیا گیا اس میں بھی سنجیدہ نوعیت کی غلطیاں ہیں۔
یہ سارا پروسیس حکومت کو فیور دے رہا ہے۔ سیلیکشن کا پروسیس حکومت نے اپنے پاس رکھ لیا ہے، آنے والے دنوں میں آپ نتائج دیکھیں گے۔
19مزید پڑھیں :ویں آئینی ترمیم عجلت میں منظور کی گئی جس کے نتیجے میں آئین کا توازن بگڑ گیا،اعظم نذیر تارڑ

یہ بھی پڑھیں