وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 بینکوں کو لوٹ لیا گیا جبکہ ایک مسلح ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی۔
اسلام آباد میں دوسرے روز بھی 2 بینکوں میں ڈکیتی کی گئی، سیکٹر جی 94 میں واقع بینک میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے اور ڈاکو پیسوں سے بھرا بیگ لے کر فرار ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق بائیک پر سوار مسلح ڈاکوؤں نے بینک میں ڈکیتی کی واردات کی، نجی بینک کی گاڑی بینک میں پیسے جمع کروانے آئی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کی اور سیکیورٹی گارڈ کو شدید زخمی کردیا۔
اس دوران فائرنگ سے بینک کے ساتھ واقع ہوٹل کے 3 ملازمین بھی زخمی ہوئے، طبی امداد کی فراہمی کے لیے زخمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک ہوٹل ملازم حیدر علی جاں بحق ہو گیا۔
حکام کے مطابق ڈاکو پیسوں والا بیگ لے کر فرار ہو گیا جبکہ پولیس نے بینک کو سیل کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔
اس کے علاوہ اسلام آباد میں بینک ڈکیتی کی دوسری واردات تھانہ سنبل کے علاقے میں ہوئی، ڈاکو بینک میں واردات کے بعد فرار ہو گیا، جی نائن کے بعد بائک رائڈر جی 14 پہنچا اور بینک میں ڈکیتی کی جس کی بھی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آگئی۔
رپورٹ کے مطابق ملزم نے بینک لوٹا اور فائرنگ کرتا ہوا فرار ہوگیا، ملزم کی فائرنگ سے 2 سیکییورٹی گارڈز زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
اسلام آباد میں ڈکیتیوں پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) ناصر رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز 2 اور آج پھر ڈکیتی کی 2 وارداتیں ہوئی ہیں، پولیس نے ثبوت اکٹھے کر لیے، کیس 50 فیصد حل ہے، تمام ڈکیتیاں ایک طریقہ کار سے ہوئیں، گرفتاری کر لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کو سیکیورٹی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، بہتر سیکیورٹی فراہم نہ کرنے والی کمپنیوں کو پہلے بھی بند کیا گیا، کیش وین کے ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا۔


