Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

اسلام آباد میں خوراک کے عالمی دن کی تقریب: خوراک کے حق کو فروغ دینے کے لیے جدت اور پالیسی پر زور

خوراک کے عالمی دن کی مناسبت سے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت، اقوام متحدہ کے اداروں اور سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز کے نمائندے قومی پالیسی ڈائیلاگ کے لیے اسلام آباد میں جمع ہوئے، جس کا موضوع “خوراک کے حق کو یقینی بنانا: پالیسی سازی کے لئے جدت اور فوڈ سسٹم کا فروغ ” تھا۔ گلوبل الائنس فار امپرووڈ نیوٹریشن (گین) ، نیشنل الائنس فار سیف فوڈ (این اے ایس ایف)، اسکیلنگ اپ نیوٹریشن موومنٹ (ایس یو این) اور سن بزنس نیٹ ورک (ایس بی این) کے تعاون سے منعقد کی گئی اس تقریب نے پاکستان میں سب کے لئے قابل رسائی، غذائیت سے بھرپور اور پائیدار خوراک کو یقینی بنانے کے لئے جامع، پالیسی پر مبنی حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔

پی اے آر سی میں سوشل سائنسز کے ممبر ڈاکٹر غلام صادق آفریدی اور این اے ایس ایف کے چیئرمین رانا اویس خان نے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں کارروائی کے لئے اجتماعی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ پاکستان حلال اتھارٹی، پاکستان نیشنل ایکریڈیٹیشن کونسل، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی نمائندگی کرنے والے معزز مہمان مقررین نے غذائی قلت سے نمٹنے اور پائیدار غذائی تحفظ کے حصول کے لیے فوڈ سسٹم میں جدید منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا۔

گین پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر فرح ناز نے ضرورت مند کمیونٹیز کے لیے خوراک تک رسائی بڑھانے، مشکلات کا مقابلہ کرنے، رسائی اور بائیو فورٹیفائیڈ فصلوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرنے اور آب و ہوا سے متعلق اسمارٹ زرعی طریقوں میں کاشتکاروں کی مدد پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے گین کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح گین کا کام پالیسی کی وکالت، بائیو فورٹیفکیشن اور انیشی ایٹو آن کلائمیٹ ایکشن اینڈ نیوٹریشن (آئی-سی اے این) جیسے اقدامات کے ذریعے غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

فیض رسول، ہیڈ آف پالیسی اینڈ ایڈواکیسی، گین پاکستان نے پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کی صورتحال، فوڈ سسٹم میں تبدیلی کے حوالے سے حکومت پاکستان کے عزم اور خاص طور پر کلائمیٹ ایکشن اینڈ نیوٹریشن (آئی-سی اے این) سے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

تقریب میں گین کی پورٹ فولیو لیڈ ، تنزا صدف نے فوڈ پروڈکشن ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے پریزنٹیشنز دیں، اس کے علاوہ خوراک کی پیداوار میں جدت طرازی اور فصل کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور غذائی چیلنج سے نمٹنے کے لیے گین پاکستان کے اقدامات کا موثر جائزہ پیش کیا گیا۔ پالیسیوں میں خامیوں اور لوگوں کے فائدے کے لئے ان کو دور کرنے کی ضرورت کو بھی زور دیاا گیا۔

پی سی ایس آئی آر لاہور کے ڈاکٹر اعجاز احمد نے بائیو فورٹیفائیڈ زنک گندم کی حالیہ ٹیسٹنگ کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے اس میں مائکرو نیوٹرینٹ کی مقدار کو بہتر بنانے اور کمی سے نمٹنے کی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔ فریزلینڈ کیمپینا اینگرو پاکستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد ناصر جیسے صنعت کے رہنماؤں کی جانب سے اضافی پریزنٹیشنز میں صحت عامہ میں غذائیت کے اہم کردار پر زور دیا گیا اور پاکستان میں غذائی قلت اور بھوک سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔

اس تقریب نے ایک ماہ تک جاری رہنے والی ملک گیر مہم کا اختتام کیا۔ اکتوبر کے دوران اس مہم میں صوبائی سطح پر مختلف اجتماعات اور سرگرمیاں انجام دی گئیں، جن کا مقصد خوراک کے عالمی دن سے متعلق موضوعات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں