اسلام آباد(نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی رکنیت بحال کر دی ! جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ معطل کر دیا !یاد رہے کہ 21 نومبر کو الیکشن کمیشن نے کوئٹہ سے رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کو ڈی سیٹ کردیا تھا ۔
سپریم کورٹ،این اے 262 کوئٹہ سے برطرف عادل بازئی کی اپیل پر سماعت ،سپریم کورٹ نے عادل بازئی کو ڈی سیٹ کرنے کا الیکشن کمیشن کا 21 نومبر کا فیصلہ معطل کر دیا ، سپریم کورٹ نے حکم امتناع دیتے ہوئے عادل بازئی کو بطورایم این اے بحال کر دیا
عادل بازئی کو الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 63 اے کے تحت ڈی سیٹ کیا، وکیل درخواست گزار تیمور اسلم،الیکشن کمیشن نے حقائق کا درست جائزہ لیا نا ہی انکوائری کے لیے عادل بازئی کو بلایا، وکیل درخواست گزار
جسٹس منصور علی شاہ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عادل بازئی کے حلف ناموں کا معاملہ سول کورٹ میں تھا تو الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار کیسے ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن سول کورٹ کے زیر التوا معاملے پر نوٹس لے سکتا ہے؟عادل بازئی کے دو حلف نامے ہیں اور وہ کہتے ہیں انہوں نے دوسرے پر دستخط کیا، جسٹس عائشہ ملک ،پہلے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا معاملہ طے کریں، کسی کو اسمبلی سے باہر نکال دینا معمولی کارروائی نہیں لہذا ہر پہلو کو دیکھنا ہو گا، جسٹس منصور علی شاہ
یادر ہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی حمایت سے منتخب رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کو نااہل قرار دے دیا، الیکشن کمیشن نے آرٹیکل63 اے کے تحت عادل بازئی کو ڈی سیٹ کیا۔عادل بازئی کی نااہلی کیلئے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست پر سپیکر کا ریفرنس منظور کیا تھا ۔
الیکشن کمیشن نے این اے 262 ون کی نشست کو خالی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عادل بازئی نے 26 ویں ترامیم پر ووٹ نہیں دیا، پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مروجہ قوانین کے مطابق تمام ممبران پارٹی گائیڈ لائنز پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔عادل بازئی این اے 262کوئٹہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔
ریاست مخالف پروپیگنڈے کے الزام میں پی ٹی آئی کا اہم رہنما گرفتار


