مری (نامہ نگار )سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کی کوئی رٹ اور سوچ نہیں ہے، عوام سے مشاورت کے ساتھ مری میں منصوبے شروع کیے جائیں، پنجاب حکومت عوام سے اتنا ڈری ہوئی ہے کہ مری میں دفعہ 144 لگا دی ، میں نے زندگی میں کبھی مری میں دفعہ 144 نہیں دیکھی، سیکشن 4 لوگوں کے کاروبار تباہ کرنے کیلئے نہیں ملکی معاملات کیلئے لگتا ہے ،مری روڈ پر ترقیاتی کام کرنا ہے تو عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مری میں عوامی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا عوام کے حقوق کے لیے سب سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں، حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے کوئی اقدامات کرنا چاہتی ہے تو پہلے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔
انہوں نے کہا کہ حق کی بات کرنے اورجو ظلم ہو رہا اس کی بات کرنے آئے ہیں، ہم کسی سے جھگڑا نہیں چاہتے میری گزارش ہے کہ ہم بہت اچھے ہیں لیکن ہم پر ظلم مت کریں ہمارا امتحان نہ لیں۔۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو حق نہیں کسی کی چار دیواری پامال کرے، ناکام حکومت دفعہ 144 نافذ کرتی ہے، افسر یہاں پر حکمرانی نہ کریں خدمت کریں، ہم سے جھگڑا نہ کریں۔انہوں نے کہا ہم لوگ ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ نہیں بنتے، کسی کا روزگار ختم کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس کا متبادل دیں ۔ ب
ازار اور ہوٹلوں کی عمارتیں گرانا کوئی حکمرانی نہیں ہے، کچھ عمارتیں دائیں اور کچھ بائیں جانب گرائی گئی ہیں، یہ بلڈنگز کیوں گرائی گئی ہیں کسی کے پاس کوئی جواب ہے؟ اگر آپ نے ایک جیسا رکھنا ہے تویہ میکڈونلڈ کی بلڈنگ ہے ،اگر آپ نے ہماری بلڈنگز گرانی ہیں تو معیار ہونا چاہئے اگر میکڈونلڈ کی بلڈنگ سڑک سے 20فٹ ہے تو ہم بھی 20فٹ دور ہوں گے ،
اگر یہ سڑک سے 66فٹ دور ہے تو ہم بھی 66 فٹ دور ہوں گے، قانون سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہیئے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا حکومت کو عوام سے مشاورت کے بعد مری میں منصوبے شروع کرنے چاہئیں، کسی ڈویلپمنٹ کے خلاف نہیں لیکن با مقصد ہونی چاہیے، انتظامیہ کے پاس فیصلے کا اختیار نہیں ہے، قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ مری میں ٹیکس لاگو ہو رہا ہے جس کا کوئی مقصد نہیں ،آج ٹیکس کی بات ہورہی ہے یہ کون سا ٹیکس ہے جو اس علاقے میں لگ رہا ہے؟ یہ پہلے بھی ایک ضلع راولپنڈی تھا ، آج ضلع مری ہوگیا تو ٹیکس کہاں سے آگیا؟ آج گائوں کی دکانوں پر ٹیکس لگایا جارہا ہے، مجھے بتائیں کہ ضلع پنڈی میں گائوں کی دکانوں پر ٹیکس لگتا ہے؟آج ہمیں دفعہ 144 دکھایا جاتا ہے،
میں نے زندگی میں کبھی دفعہ 144نہیں دیکھی۔ کیا حکمران عوام سے اتنا ڈرے ہوئے ہیں جو دفعہ 144 لگانی پڑتی ہے، یہ 10ہزار لوگوں پر پرچے درج کریں گے؟ حکومت کی کوئی رٹ اور سوچ نہیں ہے۔ میاں نواز شریف روزگار فراہم کرتے تھے،
میاں نواز شریف اس طرح کا فیصلہ نہیں کر سکتے، اس علاقے کی انتظامیہ عزت کرتی تھی۔شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ مری کی عوام با شعور ہے، عوام کی طاقت کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتے، با اختیار انتظامیہ سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں، اس علاقے کے لوگوں کے مسائل حل کرنا ہوں گے، عوام سے مشاورت کے ساتھ ہر کام قبول ہے۔
سعودی عرب ہمارا سب سے بااعتماد دوست اسلامی ملک ہے ، محسن نقوی

