اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہندوستان کی ہوا ہی آلودہ ہو رہی ہے تو یہ خبر آپ کو حیران کر سکتی ہے! پاکستان اب دنیا کا تیسرا آلودہ ترین ملک بن گیا ہے۔ سوئس ایئر ٹیکنالوجی کمپنی IQAir کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہوا اس قدر خراب ہو چکی ہے کہ لوگوں کے لیے سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ اس فہرست میں چاڈ ٹاپ پر ہے جبکہ بنگلہ دیش دوسرے نمبر پر ہے۔
گزشتہ سال پاکستان میں آلودگی کی سطح اس قدر بڑھ گئی تھی کہ اسے ‘آفت’ قرار دینا پڑا تھا۔ خاص طور پر پنجاب میں حالات کافی سنگین ہو گئے تھے۔ اس زہریلی ہوا کی وجہ سے تقریباً 20 لاکھ لوگ بیمار ہو کر علاج کے لیے اسپتال پہنچے۔ حکومت نے آلودگی سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا اور اسکول بند کر دیے، لیکن صورتحال قابو میں نہ آ سکی تھی۔
ڈبلیو ایچ او کے معیارات سے 15 گنا زیادہ آلودہ ہے پاکستان کی ہوا
IQAir کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں PM2.5 (2.5 مائیکرون سے چھوٹے آلودگی والے ذرات) کی سطح 73.7 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ گئی، جو کہ عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے مقرر کردہ محفوظ سطح سے 15 گنا زیادہ ہے۔ یہ وہی خطرناک ذرات ہیں جو سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔
ہندوستان اور دیگر ممالک میں کیا حال ہے؟
IQAir کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان اس فہرست میں 5ویں نمبر پر ہے۔ نئی دہلی کو دنیا کا سب سے آلودہ دارالحکومت قرار دیا گیا، اس کے بعد چاڈ کا دارالحکومت N’Djamena اور پھر بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ ہے۔ ہندوستان کے کئی شہر بھی شدید آلودگی کی لپیٹ میں ہیں۔
جنوبی ایشیا میں پاکستان کی صورتحال تشویشناک
جنوبی ایشیا میں پاکستان آلودگی کے لحاظ سے بنگلہ دیش کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاہور، ملتان، پشاور اور سیالکوٹ جیسے شہر سب سے زیادہ آلودہ ہیں۔ پاکستان میں فضائی آلودگی کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں جن میں لکڑی اور کچرا جلانا، فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں کا دھواں، اینٹوں کے بھٹوں سے اٹھنے والا دھواں اور تعمیراتی کام سے اڑنے والی گردوغبار شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:’ اسلام قبول کرنے سے جو سکون ملا اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا‘

