پشاور(اوصاف نیوز) خیبر پختونخوا میں کوہستان کرپشن اسکینڈل میں نئے اور ہوشربا انکشافات سامنے آ گئے ۔ نیب نے تحقیقات باقاعدہ انکوائری سے فُل اسکیل تحقیقات میں تبدیل کر دی ، جس کے بعد40ارب روپے کی کرپشن کیخلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نیب نے اس کیس میں اب تک 25 ارب روپے کے اثاثے برآمد اور منجمد کر دیئے، جن میں 94 کروڑ روپے مالیت کی 77 لگژری گاڑیاں شامل ہیں۔
ان میں مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو، آؤڈی، پورش ٹائیکان، لینڈ کروزر، فورچونر، ہائی لکس ریو، مارک ایکس اور فورڈ مستانگ جیسی مہنگی ترین گاڑیاں شامل ہیں۔
77 لگژری گاڑیاں مالیت: 94 کروڑ روپے
1 ارب روپے سے زائد کی نقدی، غیر ملکی کرنسی اور 3 کلو سے زائد سونا
73 بینک اکاؤنٹس میں موجود 5 ارب روپے منجمد
109 جائیدادیں ضبط، جن میں:
4 فارم ہاؤسز
30 رہائشی مکانات
25 فلیٹس اور پینٹ ہاؤسز
12 کمرشل پلازے
12 دکانیں اور فوڈ کورٹ
175 کنال زرعی اراضی
2 کمرشل پلاٹ
مجموعی طور پر ان جائیدادوں کی قیمت 17 ارب روپے کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے۔ ایک لگژری بنگلہ جو مشہور ڈرامہ ’پری زاد‘ میں دکھایا گیا تھا، وہ بھی برآمد شدہ اثاثوں میں شامل ہے۔
بڑی گرفتاریاں متوقع
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث اہم سرکاری شخصیات، کنٹریکٹرز، اور بینک اہلکاروں کی گرفتاری کا عمل آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ نیب حکام کے مطابق ایک منظم نیٹ ورک کے تحت قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، جبکہ مالیاتی ریگولیٹرز کو کسی قسم کا علم تک نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ یہ فراڈ سرکاری افسران، ٹھیکیداروں اور بینکنگ حکام کی ملی بھگت سے نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ کئی سالوں پر محیط طریقے سے کیا گیا، جس میں عوامی فنڈز کو ذاتی مفادات کے لیے بے رحمی سے لوٹا گیا۔
ملک بھر میں مون سون طوفانی بارشیں ، چھتیں گرنے سے 11 افراد جاں بحق


