اسلام آباد(اوصاف نیوز) بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے اے بی این نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں علینہ شگری کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فیصل آباد کی اے ٹی سی عدالت کا فیصلہ سیاسی ہے اس میں کوئی حقائق نہیں ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ سلمان اکرم راجہ کی اپنی قانونی حکمت عملی کیا رہی ہے۔ کیا آپ نے ان کیسز کو سنجیدگی سے لیا ہے ۔ جج کی ججمنٹ پڑھنے کے باوجود کسی نے اتنی جرات نہیں کی کہ وہ اپنے شواہد جمع کروائے ۔
وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ کا کہناتھا کہ میں نے عمرایوب خان، کنول شوذب ، حامد رضا سمیت تحریک انصاف کے تمام دوستوں کو فون کرکے بتایا کہ اس کیس کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے تمام دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں یہ لائٹ نہ لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ کیس آپ کے گلے ہی پڑھ جائے مگر سبھی یہی بات کہہ رہے تھے چھوڑیں کچھ نہیں ہوتا ۔ہم معاملے کو سنبھال لیں گے۔
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عمران خان پر تمام کیسز سیاسی نوعیت کے ہیں ۔ عمران خان کو اور ان کی پارٹی عہدیداروں کو پورے پاکستان میں سانحہ نو مئی میں ملوث قرار دے کر نشانہ بنایا اور پارٹی کو فارغ کردیا ۔ اس سے قبل بھی سیاسی نوعیت کے کیسز بنتے آئے ہیں ۔
آصف علی زرداری کو جیل میں ڈالا، بےنظیر بھٹو شہید کو جیل کے دروازے پر کئی کئی گھنٹے انتظار کروایا ، عدالتوں کے چکرلگوائے ، سیاسی کیسز بنوائے ۔ میرا موقف اس سے مختلف ہے کہ جو ویڈیوز میں نظرآرہے ہیں ان پر مقدمات کیوں نہیں چلائے جارہے ہیں۔ جبکہ ان لوگوں کو ملوث کیا جارہا ہے جو موقع پر موجودہی نہیں تھے ۔ ان پر کیسز اس لئے بنائے گئے کہ وہ عمران خان کیساتھ کھڑے ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین ادوار میں شامل ہیں ۔
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ 5 اگست کو تحریک انصاف کا کوئی بڑا احتجاج ہوتانہیں دیکھ رہا ۔ پارٹی کے اندر سے ایک دوسرے کو غدار قرار دیا جارہا ہے ، کارکنوں میں اور قیادت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے کارکنوں کو بدل کردیاگیا ہے
اس سے پارٹی کو فائدہ ہوا یا نقصان ہوا ہے ۔70 افراد پر مقدمہ ۔سب پر ایک جیسا الزام کیسے لگ سکتا ہے ۔ہم نے ویڈیوز ، گواہ ، شواہد دیئے مگر ایک خاص پالیسی نے فیصلہ غالب کردیا گیا۔ سپریم کورٹ کی ڈائریکشن پر پی ٹی آئی کے ساتھیوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ مقدمہ سنجیدگی سے لڑیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فرانس کے بعد جرمنی اور پرتگال کا بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ



