اسلام آباد (اوصاف نیوز) بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ جس ریلیف کے لیے درخواست دی گئی تھی وہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے ملنا چاہیے تھا مگر معاملہ سپریم کورٹ تک جانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک جھوٹے گواہ کی شہادت پر سازش کا الزام عائد کیا گیا جبکہ سرگودھا کی اے ٹی سی پہلے ہی ایسے ہی گواہوں کو ناقابلِ اعتبار قرار دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چھوٹے سے ریلیف کے لیے بھی سپریم کورٹ جانا پڑے تو یہ انصاف کے پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
عمیر نیازی نے کہا کہ جب انتظامیہ عدلیہ کے کام میں مداخلت کرے گی تو عوامی اعتماد متاثر ہوگا اور سوالات اپنی جگہ قائم رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بننے کی رائے پہلے بھی ان کی جماعت کی تھی کیونکہ چیف جسٹس کا تقرر آئین اور قانون کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ اسی تناظر میں ہونے والی اس وقت کی ترمیم کی بھی انہوں نے مخالفت کی تھی۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام “سوال سے آگے” میں گفتگو کر رہے تھے.
الیکشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمیر نیازی نے کہا کہ فروری کے انتخابات سب کے سامنے ہوئے لیکن ایوان مکمل نہیں تھے۔ خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن نہیں ہوا اور مخصوص نشستوں کا معاملہ اب بھی زیر بحث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ میں عمر ایوب اور شبلی فراز کا کیس زیر سماعت ہے اور جب تک مقدمہ ختم نہیں ہوتا، پارلیمانی کمیٹی کوئی قدم آگے نہیں بڑھا سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بائیکاٹ کی نوبت آئی تو دس سے بارہ ایم پی ایز کو براہ راست نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بانی پی ٹی آئی نے باضابطہ طور پر تمام اختیارات پولیٹیکل کمیٹی کو دیے ہیں اور کمیٹی نے کبھی ان کے حکم کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ عمیر نیازی نے کہا کہ لیڈر آف دی اپوزیشن کے معاملے پر سب عدالت کے فیصلے کے منتظر ہیں اور اسی فیصلے کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا۔
مزید پڑھیں:جنگ کے بعد ایران میں پہلی فوجی مشقیں، بحرہند میں میزائل اور ڈرون داغے

