Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

علیمہ خان سے تلخ کلامی کے بعد سلمان اکرم راجہ کا استعفے کا اعلان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے علیحدہ ہو رہے ہیں تاکہ قانونی معاملات پر اپنی توجہ مرکوز کر سکیں۔ انہوں نے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ کل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو باضابطہ طور پر اپنا استعفیٰ پیش کریں گے، تاہم بطور وکیل وہ بدستور پارٹی کی وکالت بلامعاوضہ کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ منگل کو انہوں نے ایڈووکیٹ علی بخاری کے ذریعے عمران خان کو اپنی درخواست بھجوائی تھی تاکہ قانونی ذمہ داریوں پر بھرپور توجہ دی جا سکے، مگر عمران خان نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک واٹس ایپ گروپ میں ہونے والی سخت بحث کے بعد سامنے آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ علیمہ خان نے سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ جب بانی پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا تو آپ نے علی بخاری کو عمران خان کے پاس کیوں بھیجا؟ اس سوال پر دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور صورتحال اتنی کشیدہ ہوگئی کہ گروپ کے کئی اراکین حیران رہ گئے۔ علیمہ خان کے کڑے سوالات پر سلمان اکرم راجہ دفاعی پوزیشن میں آ گئے اور بالآخر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ کوئی روایتی سیاست دان، جاگیردار یا صنعتکار نہیں بلکہ ایک عام خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ پارٹی کے اندر اور باہر سے ہونے والے حملے صبر سے برداشت کیے۔ “میں نے اپنی بھرپور وکالت اور معاشی استحکام کو پیچھے چھوڑ کر بھی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنے کا فیصلہ کیا اور اس پر کوئی ملال نہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ آج پیش آنے والے واقعے نے انہیں دو ٹوک فیصلے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب ہے اور وہ اصول یا دیانت پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کر سکتے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سلمان اکرم راجہ کے اچانک اعلانِ استعفیٰ نے پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ پارٹی کے سخت ترین دور میں قیادت کے قریبی رہنماؤں کے درمیان اختلاف اور تلخ کلامی نے کارکنوں کو بھی حیران کر دیا ہے، جبکہ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ اس دباؤ کو کس حد تک سہہ پائے گا۔
مزیدپڑھیں:اب قطاریں ختم! بی آئی ایس پی مستحقین کو گھر بیٹھے رقوم ملیں گی ، وزیراعظم کا بڑا اعلان

یہ بھی پڑھیں