اسلام آباد (اے بی این نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے اے بی این کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ڈائیلاگ اور ملاقات کو مثبت قدم سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’بغیر اس بحث میں پڑے کہ کون درست ہے یا کون غلط، ملاقات اچھی بات ہے، ملاقات سے مثبت پیغامات آنے چاہئیں‘‘۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر رہنماؤں نے بجا طور پر یہ مؤقف اپنایا ہے کہ ’’نو مئی کے واقعات‘‘ کے بعد محض معافی کے بغیر معاملات کو بند نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اور سیاسی ماہرین کی رائے بھی یہی ہے کہ پہلے غلطی کا اعتراف ضروری ہے، اور اگر سابق وزیراعظم عمران خان آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں تو پھر معافی کا دروازہ بھی بند ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ’’نو مئی کا واقعہ کوئی افسانہ نہیں ہے، یہ حقیقت ہے۔ اگر اس پر معافی نہیں مانگی جائے گی تو پھر مزید سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا‘‘۔
‘‘جرائم پر ثبوت واضح ہیں’’
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مقدمات میں صرف سزائیں ہی نہیں ہو رہیں بلکہ کئی لوگ بری بھی ہو رہے ہیں، اور اپیل کا عمل بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی ہدایت دے چکی ہے کہ یہ مقدمات چار ماہ میں نمٹائے جائیں، اور زیادہ تر فیصلے ہو چکے ہیں۔
انہوں نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب دفاعی تنصیبات پر حملے ہوئے، ویڈیوز موجود ہیں، لوگ وردیاں پہن کر نظر آرہے ہیں، آگ لگائی جا رہی ہے، تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ پولیٹیکل وکٹمائزیشن ہے؟ ایسے واضح ثبوتوں کے باوجود اگر سزا نہ دی جائے تو پھر ریاست کی رٹ کہاں کھڑی ہوگی؟‘‘
‘‘عمران خان اپنے ہی سیاسی تابوت کی آخری کیل ٹھونک رہے ہیں’’
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دلواتے ہیں یا انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو اس سے حکومت کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق یہ عمران خان کے اپنے سیاسی وجود کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ان کے بقول: ’’ریاست کو حادثے سے دوچار کرنا مشکل ہے لیکن عمران خان اپنی جماعت کو ضرور حادثے سے دوچار کر رہے ہیں۔ یہ ان کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا‘‘۔
‘‘عوام جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کے ساتھ نہیں’’
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ماضی میں بھی عوام نے جلاؤ گھیراؤ کی پالیسی کو مسترد کیا۔ ’’نو مئی کو صرف چند کارپورٹس اور ورغلائے گئے افراد شریک ہوئے، لیکن عوام نے اس بیانیے کا ساتھ نہیں دیا۔ جمہوری جدوجہد اور احتجاج الگ چیز ہے، لیکن ریاستی تنصیبات پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ عوام دوست عمل نہیں‘‘۔
‘‘ڈائیلاگ سب کے ساتھ ہی ممکن’’
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی 14 اگست کو ’’استحکامِ پاکستان‘‘ ٹیبل پر بات چیت کے تناظر میں کہا کہ قومی مکالمے (نیشنل ڈائیلاگ) کے بغیر ملکی استحکام ممکن نہیں۔ ان کے مطابق: ’’پاکستان سب کا ہے، صرف حکومت کا نہیں۔ استحکام کے لیے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ لیکن مذاکرات اس شرط پر نہیں ہو سکتے کہ پہلے ریاست کو دباؤ میں لا کر بات منوائی جائے‘‘۔
‘‘اداروں اور حکومت پر سوالات’’
ایک سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بعض حلقے حکومت کے اختیارات پر شک کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ریاستی ادارے اور حکومت مکمل ہم آہنگی سے فیصلے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق: ’’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ حکومت کے پاس اختیار نہیں تو اسے اپنے مؤقف پر نظرِثانی کرنی چاہیے‘‘۔
‘‘فیلڈ مارشل کی مدتِ ملازمت پر قیاس آرائیاں بے بنیاد’’
فیلڈ مارشل (چیف آف فورسز) کی مدت ملازمت میں ممکنہ توسیع سے متعلق سوال پر رانا ثناء اللہ نے وضاحت کی کہ ’’قانون سازی پہلے ہی ہو چکی ہے۔ ان کی مدت پانچ سال ہے، اور ابھی ڈھائی سال بھی پورے نہیں ہوئے۔ اس لیے اس حوالے سے قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں‘‘۔
مزیدپڑھیں:پاکستان 5 جی لانچ کرنے میں ناکام کیوں؟ اصل وجہ سامنے آگئی
