اسلام آباد (اے بی این نیوز) پنجاب میں حالیہ بارشوں اور دریاؤں و برساتی نالوں میں طغیانی کے باعث تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گجرانوالہ اور سیالکوٹ ڈویژن میں برساتی نالوں سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ نالہ ڈیک، جس کی گنجائش 24 ہزار کیوسک ہے، اس میں 78 ہزار کیوسک پانی آیا جبکہ دریائے چناب میں بھی ریکارڈ سطح کا پانی داخل ہوا جو تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا۔
وزیر بلدیات کے مطابق حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں بروقت ایویکیوشن اور ریلیف آپریشن کیا گیا جس کے باعث جانی نقصان کم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ “پچھلے تین چار دنوں میں انتظامیہ کی بھرپور کاوشوں کے نتیجے میں تقریباً 70 فیصد پانی کی سطح میں کمی آئی ہے۔”وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ ایٹ 8 میں گفتگو کرترہے تھے انہوں نے کہا کہ
اگرچہ حالیہ بارشیں اور سیلاب ایک قدرتی آفت ہیں، لیکن پنجاب حکومت مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پہلی بار صوبے کے 66 شہروں میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینکس اور جدید ڈرینیج سسٹم کے منصوبے شروع کرنے کی منظوری دی ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد بارش کے پانی کو محفوظ کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنانا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سیوریج اور برساتی پانی کے نظام کو الگ کیا جا رہا ہے تاکہ شہروں میں پانی کے بہاؤ کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ منصوبے “پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام” کا حصہ ہیں اور رواں سال ہی ان پر عملی کام شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے مسائل کے مستقل حل کے لیے ڈیمز اور بڑے ریزروائرز کی تعمیر ناگزیر ہے۔ “ہمیں ایک قومی پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں قیمتی پانی ضائع ہونے کے بجائے ذخیرہ کیا جا سکے اور سیلابی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔”
ذیشان رفیق نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت دریاؤں کے قدرتی راستوں پر قائم تجاوزات ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ آئندہ سیلابی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ نہ آئے۔
مزیدپڑھیں:اسرائیل کی یمن پر بمباری، حوثیوں کے وزیراعظم اور متعدد وزرا شہید


