لاہور (نیوز ڈیسک)اغوا کے کئی واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں مگر لاہور میں تو جنات نے مبینہ طور پر دو بچوں کی ماں کو ہی اغوا کر لیا۔
تاوان، ذاتی دشمنی، شادی کے لیے اغوا کرنے کے متعدد واقعات آپ سب نے سن اور پڑھ رکھے ہوں گے۔ تاہم لاہور میں اغوا کا اپنی نوعیت کا ایک ایسا منفرد واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک خاتون نے اپنی بیٹی کے اغوا کا الزام جنات پر عائد کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں دو بچوں کی ماں فوزیہ بی بی 6 سال قبل 2019 میں لاپتہ ہو گئی تھی۔ اس کی والدہ نے یہ نا قابل یقین دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیٹی کو جنات (شیاطین) نے اغوا کیا ہے اور کاہبہ پولیس نے اس وقت والدہ کی مدعیت میں دفعہ 365 (اغوا) کے تحت مقدمہ نمبر 1572/2019 بھی درج کیا تھا۔
تاہم بیٹی کے نہ ملنے پر والدہ نے عدالت سے رجوع کیا اور وہاں بھی یہی موقف اختیار کیا۔ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کو فوزیہ کی جلد بازیابی کا حکم دے دیا۔ جس کے بعد پولیس ایک بار پھر حرکت میں آ گئی ہے۔
جنات کے ہاتھوں مبینہ اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ کا سراغ لگانے کے لیے لاہور پولیس نے دوبارہ تلاش شروع کرتے ہوئے 9 اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔ اس ٹیم نے متعدد زاویوں سے تحقیقات اور تلاش شروع کر دی ہے۔
مذکورہ کیس میں مبینہ مغویہ کی تلاش کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان رضا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ ٹیم میں ایس ایس پی عاصم کمبوہ، ایس پی ماڈل ٹاؤن انویسٹی گیشن لاہور محمد ایاز، ڈی ایس پی اسپیشل برانچ، ڈی ایس پی سیف سٹی، ڈی ایس پیز سی سی ڈی حسنین حیدر اور دانش رانجھا، ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کاہنہ سرکل لاہور عثمان حیدر اور انچارج انسپکٹر زاہد سلیم شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:گرین ای ٹیکسی لینے کا اہل کون ہے اور کس کو نہیں مل سکتی؟ جانیں

