Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکلاء کی کشیدگی، 150 وکلاء پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور ممتاز وکیل ابوذر سلمان نیازی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری کشیدگی اور وکلاء کے درمیان تصادم پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف بار کو تقسیم کر رہی ہے بلکہ عدلیہ کے وقار کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ڈی بیٹ ایٹ 8 میں گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر نے ایک ایسی درخواست دائر کی جس میں الزام لگایا گیا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے وکلاء اور ایمان مزاری نے ایک وکیل پر حملہ کیا۔ اس درخواست کی بنیاد پر پولیس نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی اور 150 وکلاء کو نامزد کیا گیا۔ نیازی نے اس اقدام کو “جھوٹی اور مضحکہ خیز” ایف آئی آر قرار دیا اور کہا کہ ویڈیوز میں سب کچھ واضح ہے کہ یہ محض ہاتھاپائی تھی، جسے دہشت گردی بنا کر پیش کرنا انصاف کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

ابوذر سلمان نیازی نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک بار کا صدر اپنے ہی وکلاء کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے وکلاء برادری میں مزید تقسیم پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بار کے صدر کے انتخاب میں پی ٹی آئی نے غلطی کی۔ “ہم نے ایک ایسے شخص کو ووٹ دیا جو ہمارے ووٹوں سے صدر منتخب ہوا لیکن بعد میں اس نے اپنے مینڈیٹ سے غداری کی اور حکمران جماعت و اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر فیصلے کرنے لگا۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قانونی تاریخ میں یہ ایک خطرناک موڑ ہے۔ “اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان سپریم کورٹ سے رجوع کر رہے ہیں اور جسٹس ڈوگر کی عدالت کا بائیکاٹ ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ کے اندر بھی تقسیم بڑھ رہی ہے۔”

پی ٹی آئی رہنما نے ملک میں عدلیہ اور میڈیا کے زوال پر بھی روشنی ڈالی۔ “گزشتہ دس برسوں میں میں نے دو بڑے شعبوں کو زوال پذیر ہوتے دیکھا ہے: میڈیا اور بار۔ جب صحافی بزنس مین بن جاتے ہیں تو وہ صحافت نہیں کر سکتے۔ اسی طرح جب وکلاء ڈی ایچ اے کے ساتھ معاہدے کر کے ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتے ہیں تو وہ بنیادی حقوق کے محافظ نہیں رہتے بلکہ پراپرٹی ڈیلرز بن جاتے ہیں۔”

توشہ خانہ II کیس پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونا چاہتے تھے لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ “خان صاحب کو ویڈیو لنک کے ذریعے ایسے پیش کیا جا رہا ہے جیسے وہ کوئی ہائی پروفائل دہشت گرد ہوں۔ یہ غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی رویہ ہے۔”

انہوں نے سابق پرسنل سیکرٹری انعام شاہ کی گواہی کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ اسے دباؤ ڈال کر جھوٹے بیانات دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔ “یہ وہی گواہی ہے جو پہلے بھی دوسرے کیسز میں جھوٹ ثابت ہوئی۔ یہ سب گواہ زبردستی تیار اور رٹائے گئے ہیں۔”

“مشن نور” کے حوالے سے سوال پر ابوذر نیازی نے کہا کہ یہ دراصل سوشل میڈیا کی مہم تھی اور پارٹی اس پر جلد باضابطہ موقف سامنے لائے گی۔

ابوذر سلمان نیازی نے اپنی گفتگو میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ تحریک انصاف سے غلطیاں ضرور ہوئیں، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ عدلیہ میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔ “دنیا کے بہترین وکیل بھی اگر یہ کیس لڑیں تو بھی ان عدالتوں سے انصاف ملنے کی امید نہیں۔”

مزیدپڑھیں:فلم کے سیٹ پر گرگئے، دوران علاج چل بسے

یہ بھی پڑھیں