Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

پاک ، افغا ن جنگ ،وجہ کیا؟ ملیحہ لودھی کا بڑا انکشاف

اسلام آباد (ویب نیوز) پاکستان کی سابق مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان کی پالیسی بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔

پاکستان و افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہے۔

میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ افغان حکومت کو بارہا کہا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر، خصوصاً ٹی ٹی پی، کی کارروائیوں سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، مگر افغان طالبان حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی مؤثر پیش رفت نظر نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ افغان نمائندوں کی جانب سے یقین دہانیاں کرائی گئیں تھیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن ان وعدوں پر عملدرآمد میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پوزیشن واضح ہے، اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

افغانستان اور بھارت کے تعلقات سے متعلق سوال پر ملیحہ لودھی نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتیں کہ کابل اور دہلی کے تعلقات پاکستان کے لیے کسی بڑے خطرے کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جغرافیہ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا — پاکستان افغانستان کا قدرتی ہمسایہ ہے، بھارت نہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کو تجارتی اور ٹرانزٹ سہولتوں کے لیے پاکستان پر انحصار ہے، اور خطے میں پائیدار امن و ترقی کے لیے ہمسایہ ممالک کے درمیان بامعنی تعاون اور حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی ناگزیر ہے۔

ملیحہ لودھی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں : آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے گرد گھیرا تنگ، مالی شفافیت لازمی قرار

یہ بھی پڑھیں