جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات دیے گئے تھے لہٰذا اگر صوبوں کے اختیارات کم کیے گئے تب بھی ہم 27ویں ترمیم کی مخالفت کریں گے۔
جمعے کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تاحال منظرِ عام پر نہیں آیا اس لیے فی الحال اس پر حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔
’مسترد شدہ شقیں شامل کرنے پر بھی 27 ویں ترمیم کی مخالفت کریں گے‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر گزشتہ 26ویں آئینی ترمیم میں مسترد کی گئی شقیں دوبارہ مجوزہ 27ویں ترمیم میں شامل کی گئیں تو ان کی جماعت اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران حکومت نے 35 متنازع شقوں سے دستبرداری اختیار کی تھی، اور اگر ان میں سے کوئی شق دوبارہ شامل کی گئی تو
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس کے ہاتھ مروڑ کر محمکہ تعلیم کے تحت رجسٹر ہونے پر زور دیا جا رہا ہے۔
آئین کی توہین اور پارلیمانی اتفاقِ رائے کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
’آرٹیکل 243 میں ترمیم جمہوریت پر اثرانداز ہوئی تو قبول نہیں ہوگا‘
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر آرٹیکل 243 سے متعلق کسی بھی ترمیم کے نتیجے میں جمہوریت پر اثر پڑا تو یہ قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے دوران تمام پارلیمانی جماعتیں آپس میں رابطے میں تھیں اور اُس موقعے پر کئی نکات کو باہمی مشاورت سے ترمیم میں شامل کرایا گیا تھا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے تمام بچوں کو اپنی سگی اولاد کی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں معاملات درست نہیں جا رہے اور انہیں بہتر کرنے کے لیے اجتماعی سوچ اور قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سود کے نظام کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کسی قسم کی پیش رفت نظر نہیں آ رہی جو ایک تشویشناک امر ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی مشکل حل کر دی




