راولپنڈی(نیوز ڈیسک)علیمہ خان کی پنجاب میں خفیہ جائیدادیں سامنے لانے کے لئے چھان بین شروع ہو گئی۔
ذمہ دار صحافتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب حکومت کے بورڈ آف ریونیو نے علیمہ خان کی پنجاب بھر میں خفیہ جائیدادوں کی چھان بین شروع کردی ہے۔
بورڈ آف ریونیو کے سینئیر ممبر نبیل جاوید کی جانب سے تمام ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ اپنے ضلع میں علیمہ خان کی جائیدادوں کی چھان بین کر کے بورڈ آف ریوینیو کو رپورٹ پیش کریں۔ ڈپٹی کمشنروں سے ان کے ضلع میں علیمہ خان کے نام پر موجود منقولہ ،غیر منقولہ جائیداد اور زرعی رقبوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
علیمہ خانم کی جائیدادوں کا ریکارڈ انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کو ارسال کیا جائے گا۔
علیمہ خان اس عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کی سماعتوں میں بار بار طلب کئے جانے کے باوجود پیش نہیں ہوئی۔ ان کے وارنٹ گرفتاری نکالے گئے وہ تب بھی عدالت کے روبرو مقدمہ کی کارروائی کے لئے پیش نہیں ہوئی۔ اب عدالت علیمہ خان کی جائیداد قرق کرنے کے لئے قانونی انتظام کروا رہی ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت 26 نومبر وائلنس کیس کیا ہے
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے 26 نومبر کو پر درج کیے گئے مقدمے میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
اے ٹی سی راولپنڈی میں علیمہ خان اور دوسرے 10 ملزموں کے خلاف 26 نومبر کے پُرتشدد جرائم کے حوالے سے درج مقدمے کی سماعت جج امجد علی شاہ کر رہے ہیں۔
علیمہ خان اور ان کے وکلا گزشتہ کئی سماعتوں میں عدالت میں پیش نہیں ہوئے، مقدمے میں نامزد دیگر ملزم عدالت میں موجود ہوتے ہیں۔
13 نومبر کو عدالت نے دسویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے علیمہ خان کو گرفتار کرکے 17 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دیا اور مقدمے کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کردی ۔
پنجاب یا کسی دوسری پولیس فورس نے اب تک عدالت کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے علیمہ خان کو گرفتار نہیں کیا، مقدمہ کی سماعت پرسوں ہونا ہے۔
علیمہ خان سمیت 11 افراد کے خلاف 26 نومبر کو وائلنس کا مقدمہ تھانہ صادق آباد میں درج ہے، علیمہ خان اور دیگر افراد پر جلاؤ گھیراو، کارسرکار میں مداخلت اور دوسروں کو پرتشدد احتجاج پر اکسانے کا الزام ہے۔
فرد جرم عائد ہو چکی ہے
پولیس اس کیس کی تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت مین پیش کر چکی ہے، عدالت نے عدالتی طریقہ کار کے مطابق تمام ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد ملزموں پر فرد جرم عائد کرنا تھی، اس موقع پر عمومی طریقہ کار کے مطابق ملزم کی موجودگی کو یقینی بنایا جاتا ہے تاہم فرد جرم ملزم کی عدم موجودگی میں بھی عائد کی جا سکتی ہے اور اس کی کوئی قانونی ممانعت نہیں۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے ملزمہ علیمہ خان کو فرد جرم عائد کرنے کے لئے کئی بار طلب کیا لیکن وہ نہ خود آئیں نہ ان کے وکیل آئے۔ علیمہ خان نے ابتدائی سماعتوں مین اس مقدمہ میں عدالت کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا اس اعتراض کو مسترد کر دیا گیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے گزشتہ ماہ 26 نومبر کے پُر تشدد جرائم پر تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے میں علیمہ خانم سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔
جج امجد علی شاہ نے 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کی تھی۔
عدالت نے علیمہ خانم سمیت 10 ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے 5 گواہان طلب کرلیے تھے۔
26 نومبر کا احتجاج/ تشدد کیس کاپس منظر اور سیاق و سباق
26 نومبر 2024 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی نے “احتجاج کی فائنل کال” دی تھی۔ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عائد کی ہوئی پابندیوں کو توڑ کر اسلام آباد کے مرکزی علاقہ پر قبضہ کرنے کے لئے کئی اطراف سے حملہ کیا تھا۔ پشاور اور پختونخوا کے کئی علاقوں سے بڑا لشکر لے کر پی ٹی آئی کے لیدر اور تب صوبائی وزیراعلیٰ امین گنڈاپور اسلام آباد پر حملہ کرنے کے لئے آئے تھے اور را]ولنڈی سے بھی بہت سے لوگ الگ سے اسلام آباد جانے کے لئے سڑکوں پر نکلے تھے۔
یہ بظاہر “احتجاج” پی ٹی آئی کی ایک وسیع تر “فائنل کال” مہم کا حصہ تھا، جس میں عمران خان (جو اس وقت بھی اڈیالہ جیل میں قید تھے) کی رہائی کا مطالبہ کرنا مقصد بتایا گیا تھا لیکن یہ س کارروائی ابتدا سے ہی جنگی حملے سے مشابہہ تھی اور اس کا مقصد اسلام آباد کے مرکزی علاقہ میں پہنچ کر وہاں قبضہ کرنا تھا جیسا کہ پی ٹی آئی پہلے بھی کر چکی تھی۔
بعض میڈیا اطلاعات کے مطابق، اجتماعات پر پابندی کے باوجود کئی اطراف سے پی ٹی آئی کے 10 ہزار سے زائد حامیوں نے اسلام آباد پر حملہ کیا۔بظاہر
مارچ کرنے والوں نے اپنا راستہ روکنے کے لیے سڑکوں پر متعین کی گئی سیکیورٹی فورسز (پولیس، رینجرز وغیرہ) کے خلاف برے پیمانہ پر تشدد کیا۔
علیمہ خان پر قدمہ کے الزامات
صادق آباد تھانے میں درج مقدمے میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، پتھراؤ اور حکومت مخالف نعرے لگانے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانےکے الزامات شامل ہیں۔
تشدد کےبہت بڑے پیمانے اور شدت کی وجہ سے، کچھ مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت (ATC) کے ذریعے نمٹائے جا رہے ہیں۔
عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے بعد گواہوں کو طلب کر لیا ہے۔ گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کرنے کا عمل 17 نومبر کو (پرسوں) شروع ہو رہا ہے۔
مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی
علیمہ خان سمیت 26 نومبر تشدد میں شامل متعدد افراد کے متعدد وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ علیمہ کے گرفتاری کے وارنٹ نکلنے کی بنیادی وجہ ان کا مقدمہ کی سماعت میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق شریک نہ ہونا ہے۔ عدالت اب تک نرمی کرتی رہی ہے جس کا اظہار وارنٹ گرفتاری 10 وین مرتبہ جاری ہونے اور گرفتاری نہ ہونے سے ہو رہا ہے۔
علیمہ کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی ضبطی
عدالت نے علیمہ کے مسلسل پیش نہ ہونے پر کچھ ضمنی سخت اقدامات کیے ہیں:ان میں علیمہ کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ (CNIC) بلاک کرنا، اس کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا، اور اس کے ضامن کی جائیداد کی اٹیچ منٹ/ضبط کرنے کا حکم دینا شامل ہے۔
علیمہ خان / علیمہ خانم کون ہیں؟
علیمہ خان ( جنہیں کبھی کبھی علیمہ خانم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین، سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن ہیں۔
وہ سیاست میں نہیں رہیں البتہ عمران خان کے مالی امور سے متعلق سمجھی جاتی رہی ہیں۔ وہ خود کو ایک کاروباری شخصیت بتاتی ہیں۔ایک ٹیکسٹائل خریدنے والے ادارہ کی بانی ہیں۔ ان کے بیرونِ ملک اثاثے ان کے کاروبار کے حجم کی مناسبت سے کافی زیادہ پائے گئے۔ تاہم اس ضمن میں انہیں کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
بعد میں میڈیا رپورٹس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ علیمہ خان کی سیاست میں شمولیت (پی ٹی آئی کے ذریعے) بڑھ گئی ہے، خاص طور پر 26 نومبر کے احتجاج اور تشددکے معاملے کے آس پاس ان کی موجودگی کے آثار نمایاں ملتے ہیں۔
علیمہ خان پر اصل میں کیا الزام ہے (تشدد میں ان کا “کردار”)؟
ایف آئی آر/مقدمہ میں نامزد: وہ 26 نومبر کے احتجاج پر صادق آباد پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں 11 ملزمان میں سے ایک ہیں۔
الزامات: اے ٹی سی راولپنڈی میں پیش کئے گئے ریکارڈ کے مطابق، الزامات میں فسادات، توڑ پھوڑ، اور متعلقہ احتجاجی تشدد میں حصہ لینا شامل ہے۔
عدالتی رویہ / عدم تعمیل: قانونی کیس میں اس کے “کردار” کا ایک بڑا حصہ عدالت میں اس کا عدم پیش ہونا ہے۔ بار بار، وہ سماعت کے لیے حاضر نہیں ہوئی، جس پر عدالت کا کہنا ہے کہ قانونی عمل میں رکاوٹ ہے۔
اب عدالت مقدمہ کی گواہیاں سننے کے مرحلہ میں علیمہ خان کے ضمانتی کی جائیداد ضبط کرنے کی طرف جا رہی ہے اور خود علیمہ خان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
یہ کیس “بدنام” / اہم کیوں ہے؟
سیاسی اہمیت: احتجاج کی قیادت ایک بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی نے کی تھی اور اس میں عمران خان کے اپنے پیروکار بھی شامل تھے۔26 نومبر کو بہت بڑے پیمانہ پر توڑ پھوڑ ہوئی اور ریاست کی رٹ کو بری طرح مجروح کیا گیا۔ تشدد مین بہت سے لوگ زخمی ہوئے، بہت سی سرکاری املاک تباہ ہوئیں۔ لہٰذا اس کیس میں بڑے اثرات ہیں۔
سیکیورٹی کے مضمرات: 20,000 سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور تشدد کی اطلاع اس دن کے تشدد کو محض ایک سادہ احتجاج سے زیادہ بناتی ہے۔
قانونی مضمرات: مقدمات کی سماعت کے لئےانسداد دہشت گردی کی عدالت کا استعمال بتاتا ہے کہ ریاست اس کو نہ صرف شہری بدامنی کے طور پر بلکہ سنگین، ممکنہ طور پر دہشت گردی سے منسلک رویے (کم از کم قانونی ڈھانچہ میں) کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ہائی پروفائل مدعا علیہ: علیمہ خان صرف ایک رینک اینڈ فائل احتجاج کرنے والی نہیں ہیں – وہ عمران خان کے خاندان کا حصہ ہیں، جو میڈیا اور عوام کی توجہ میں اضافہ کرتی ہے۔
عدالتی عمل: چونکہ علیمہ خان مقدمہ کی سماعت میں پیش نہیں ہو رہیں، اس لیے بہت سی پروسیجرل چیزیں (گواہوں کے بیانات وغیرہ) میں تاخیر یا پیچیدگیاں ہو رہی ہیں۔
سیاسی عینک: اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ یہ انتہائی سیاسی ہے (پی ٹی آئی، عمران خان، احتجاج)، اس کیس اور 26 نومبر کو بڑے پیمانہ پر تشدد کے واقعات کے متعلق کچھ رپورٹنگ پر سیاسی الزام لگایا جا سکتا ہے۔ یہ فرق کرنا ضروری ہے کہ عدالت بمقابلہ سیاسی بیانیہ میں کیا الزام لگایا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:تحریک انصاف نے ہندوستان اور اسرائیل سے فنڈنگ لی: حنیف عباسی


