اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اینکر پرسن بینظیر شاہ کی ’مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی‘ جعلی ویڈیو کے شیئر کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے اس عمل شدید قابل مذمت قرار دے دیا۔
بینظیر شاہ نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا تھا کہ عطا تارڑ کی جانب سے فالو کیے جانے والے ایک اکاؤنٹ نے ان کی ایک جعلی ویڈیو (رقص سے متعلق) تیار کی۔
ویڈیو کے ساتھ دیا گیا بیان دعویٰ کرتا ہے کہ یہ بینظیر شاہ کی لندن میں ایک کلب میں رقص کرتی ہوئی لیک شدہ ویڈیو‘ ہے۔
Totally unacceptable and highly condemnable ma'am. Notice taken please. Nobody has the right to make fake videos and then disseminate them or try to harass any journalist by defaming them. I follow more than 1900 accounts. I do not condone the behaviour of this account and also… https://t.co/APd2n7t7HQ
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) November 16, 2025
بینظیر شاہ نے اس معاملے پر لکھا کہ ’ہم نے پہلے بھی کہا اور اب دوبارہ کہیں گی کہ ایسے حملے ہمیں خاموش نہیں کرسکتے‘۔
عطا اللہ تارڑ نے اتوار کی شب جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ناقابل قبول اور شدید قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا نوٹس لیا گیا ہے اور کسی کو بھی حق نہیں کہ
وہ جعلی ویڈیوز بنائے، انہیں پھیلے یا کسی صحافی کو بدنام کر کے ہراساں کرے۔
انہوں نے کہا کہ میں 1,900 سے زیادہ اکاؤنٹس فالو کرتا ہوں اور میں اس اکاؤنٹ کے رویے کی حمایت نہیں کرتا اور یقین دلاتا ہوں کہ اس پر کارروائی کی جائے گی۔
بعد ازاں، بینظیر شاہ نے وزیر کی سنجیدگی کی قدر کی مگر انہوں نے کہا کہ وہ پرِوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ذریعے کیس نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ یہ قانون اور ادارہ صحافیوں کو ہراساں کرنے، شہریوں کو خاموش کرنے اور رائے کی آزادی کو دبانے کے لیے استعمال ہو چکا ہے۔
یہوتنی ہو اور نچن آلی نہ ہو یہ کبھی ہو نہیں سکتا۔
یہوتیوں کی ونیلا آئس کریم بینظیر شاہ کی لندن کے کلب میں ڈانس وڈیو لیک pic.twitter.com/gqfkNg6ZOO— PakVocals (@PakVocals) November 8, 2025
بینظیر شاہ نے مزید کہا کہ اگر وزیر اور حکومت واقعی صحافیوں اور شہریوں کی حفاظت چاہتے ہیں تو انہیں پیکا اور این سی سی آئی اے کو ختم کرنا چاہیے اور صحافیوں کے مسائل کو حقیقی طور پر حل کرنے والا نیا قانون تیار کرنے کے لیے جامع مشاورت کا آغاز کرنا چاہیے۔
دریں اثنا مختلف صحافیوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں کہا کہ ڈیپ فیک قابل مذمت اور مجرمانہ فعل ہے اور اس کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ویڈیو بنانے والے کو عدالت میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بینظیر شاہ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے تعاون کی پیشکش بھی کی۔
مزید پڑھیں: ٹرائی نیشن سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ سلمان علی آغا نے بتا دیا


