ملتان(نیوز ڈیسک) معروف مذہبی اسکالر مفتی عبدالقوی نے ایک انٹرویو میں حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ماضی میں بھارتی اداکارہ کرینہ کپور سے نکاح ہوا تھا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے اس نکاح کو “اہلِ کتاب” سے شادی کی شرعی اجازت کے تناظر میں درست قرار دیا۔
انٹرویو میں میزبان کے سوال پر مفتی قوی نے کہا کہ “کرینہ کپور میری بیوی رہی ہے، اور جب میرا نکاح ہوا تھا تو یہ اہلِ کتاب ہونے کی بنیاد پر شرعاً جائز تھا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تحقیق کے مطابق ہندو مذہب کی کتاب وید ایک الہامی کتاب ہے، جس کے باعث ہندوؤں کو اہلِ کتاب کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
مفتی قوی نے دعویٰ کیا کہ یہ نقطہ نظر ڈاکٹر ذاکر نائیک، پروفیسر حمید اللہ اور احمد دیدات جیسے اسکالرز کی تحقیقات پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اسکالرز کے مطابق ہندو مذہب کی بنیادی وحی کو الہامی درجہ حاصل ہے، جس کی بنیاد پر مسلم مرد کا اہلِ کتاب خاتون سے نکاح ممکن ہے۔
انٹرویو کے دوران مفتی قوی نے کہا کہ “میں نے یہ بات پہلے میڈیا پر نہیں کی، مگر اس نکاح کے لیے شرعی جواز موجود تھا۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں کئی مواقع پر ڈاکٹر ذاکر نائیک اور دیگر بین الاقوامی اسکالرز کے ساتھ تقابلِ ادیان کے موضوعات پر یورپ میں لیکچرز دینے کا موقع ملا۔
تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، اور کرینہ کپور یا ان کے خاندان کی جانب سے اس حوالے سے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔
کرینہ کپور مفتی عبد القوی کے نکاح میں رہی ہیں کہتے ہیں یہ 1982 میں ہوا اور پھر آگے کرینہ کپور کی سیف علی خان سے شادی کروا کر احسان کیا ہے ۔۔ !
آگے سے پوڈ کاسٹر میزبان واہ واہ pic.twitter.com/8HVYZ5fzX2
— Ahsan Wahid (@AhsanWahid13) December 5, 2025
مزیدپڑھیں:ریاست نے واضح کردیا اب فوج اور سپہ سالار کے خلاف بکواس برداشت نہیں کی جائیگی، فیصل واوڈا


