Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

جنوری 2026: بیرون ممالک جانے والے مسافروں کے لیے بڑی خبر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جعلی دستاویزات پر بیرون ممالک جانے والے مسافروں کیخلاف شکنجہ سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں غیر قانونی تارکین وطن، جعلی و نامکمل دستاویزات کے حامل افراد اور ایجنٹ مافیا کے خلاف کارروائی سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پروٹیکٹر ایجرہ کا نظام فول پروف بنایا جائے گا جبکہ مسافروں کی سہولت کے لیے امیگریشن سسٹم میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

دونوں وزرا نے متعلقہ اداروں کو سات روز کے اندر حتمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ غیرقانونی امیگریشن روکنے کیلئے جنوری سے اسلام آباد میں اے آئی بیسڈ ایپ کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیاجارہا ہے، جس کے ذریعے سفر کے قابل اور نااہل افراد کی قبل از وقت شناخت ممکن ہوگی۔

انھوں نے ہدایت کی ڈی پورٹ شدہ افراد کے پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد دوبارہ ویزا نہ ملنے کو یقینی بنایا جائے گا اور جعلی ویزے، جعلی دستاویزات اور ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یکساں بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس نیشنل پولیس بیورو سے جاری کیا جائے گا جبکہ گرین پاسپورٹ کی درجہ بندی بہتر بنانے کے لیے مختلف ممالک سے رابطے جاری ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیر سالک حسین کا کہنا تھا کہ لیبر ویزے پر جانے والے افراد کے پاس مستند دستاویزات ہونا ضروری ہے اور پروٹیکٹر و امیگریشن سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے وزارت داخلہ کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ غلط طریقوں سے بیرون ملک جانے والے لوگ ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ امیگریشن ریفارمز کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا اور پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر بنانا ہے۔
مزیدپڑھیں:خبردار! نوکری کی پیشکش آپ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن سکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں