Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

قومی مفاہمت و قائدانہ ڈائیلاگ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے،شوکت بسرا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)شوکت بسرا نے اے بی این کے پروگرام “تجزیہ” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ 25 کروڑ عوام کھڑے ہیں اور 8 فروری کے انتخابات میں ہر قسم کے جبر کے باوجود 3 سے 4 کروڑ ووٹ پی ٹی آئی کو ملے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نشان چھینا گیا اور کاغذاتِ نامزدگی تک روکے گئے، لیکن ریاستی جبر کے باوجود پارٹی نے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ بسرا نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی سے مخصوص نشستیں اور نو سیٹیں چھینی گئیں، اور بعد میں ری کاؤنٹنگ کے ذریعے کچھ سیٹیں واپس لی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عمران خان کو “مائنس ون” کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور مذاکرات کی متعدد کوششوں کے باوجود بانی تک رسائی نہیں دی گئی۔ شوکت بسرا نے زور دیا کہ 1973 کے آئین کے مطابق تمام ادارے اپنے اصل رول میں واپس جائیں اور قومی مفاہمت و قائدانہ ڈائیلاگ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

اسی پروگرام میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ جو جماعت ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن جائے، اس پر پابندی لگنی چاہیے، لیکن سیاسی جماعت پر پابندی نہیں، بلکہ ریاست مخالف سرگرمیوں پر قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں بیٹھا شخص ملک اور فورسز کے خلاف سرگرم ہے اور اس کے ثبوت موجود ہیں۔ کے پی میں حملوں میں ملوث گروہوں سے سیاسی جماعتوں کے روابط پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ سینیٹر ناصر بٹ نے مزید کہا کہ دنیا میں کوئی سیاسی جماعت اپنی فوج پر حملہ نہیں کرتی، اور کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ اور جھنڈے لہرانا ایک قومی سانحہ ہے۔

قادر مندو خیل نے پروگرام میں کہا کہ کسی پر براہِ راست حملہ یا غیر اخلاقی سیاست نقصان دہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے اسمبلی میں استعفے دے کر اپنا سیاسی اثر کم کر لیا، جبکہ الیکشن کمیشن کے معاملات میں شفافیت برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:وسیم اکرم کی پی ایس ایل ٹیموں کے مالکان سے اہم اپیل

یہ بھی پڑھیں