اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان بہار کے وزیرِاعلیٰ کی جانب سے ڈاکٹر نصرت پروین کی سرِعام تذلیل کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ایک خاتون کا زبردستی نقاب اتارنا اور پھر اس سنگین عمل کو مذاق بنا کر اس کی سنگینی کم کرنے کی کوشش کرنا، ان کی روح، وقار اور مذہبی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ واقعہ محض ایک وقتی لغزش نہیں بلکہ اس تشویشناک رویّے کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بھارت میں مسلم خواتین کے حقوق کو اقتدار میں موجود عناصر کی جانب سے بے خوفی کے ساتھ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر اسٹیج پر موجود حکام کی ہنسی اس ناانصافی کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
ہم ڈاکٹر نصرت پروین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور اُن تمام بھارتی شہریوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اپنے ملک کی حقیقی کثرتیت اور رواداری کی اقدار کی پاسداری کر رہے ہیں۔ بہار کے وزیرِاعلیٰ کو بلا مشروط معافی مانگنی چاہیے۔ بھارتی حکام اس واقعے کی فوری تحقیقات کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ مذہبی آزادی کی ایسی خلاف ورزیاں آئندہ کبھی نہ دہرائی جائیں۔
بین الاقوامی برادری کو اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے۔ جب بنیادی انسانی حقوق کو سرِعام پامال کیا جائے تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

