Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

خطرے کی گھنٹی بج گئی، مرغی کے گوشت کا سنگین بحران کا خدشہ

لاہور(ویب ڈیسک)اضافی ٹیکسز کے باعث پولٹری انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے جس کے باعث مرغی کے گوشت کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

برائلر فارمرز کے جنرل سیکرٹری آصف گوندل نے اپنے بیان میں کہا کہ مرغی کی قلت کے وقت سپلائی برقرار رکھنا مسئلہ ہے، ٹیکسز بڑھنے سے 2 ماہ بعد چکن ملنا محال ہو جائے گی، مرغی اور اس کے گوشت پر مجموعی طور پر 65 فیصد ٹیکس عائد ہو چکا ہے۔

آصف گوندل نے کہا کہ چوزہ 20 روپے کا بھی نہیں مگر فی چوزہ 10 روپے ٹیکس لیا جا رہا ہے، اضافی ٹیکسز نے پولٹری انڈسٹری کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے، ملک میں 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں پروٹین بھی چھینی جا رہی ہے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ مرغی کے آنے والے بحران پر توجہ دیں کیونکہ آنے والا بحران تمام بحرانوں سے زیادہ سنگین ہوگا، پہلے چکن کا گوشت برآمد ہوتا تھا لیکن اب ملک میں قلت بڑھ رہی ہے، 2014 سے پہلے اس پر سیلز ٹیکس نہیں تھا اور پیداوار بھی زیادہ تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کمیٹی بنا کر فارمرز سے مذاکرات کرے اضافی ٹیکس ختم کرے، مطالبات نہ مانے گئے تو پُرامن احتجاج کریں گے، اگر اس سے بھی بات نہ بنی تو مرغی کے فارمز بند کر دیں گے۔

’کھانے کی اشیا پر ڈبل ٹیکس نہیں لگ سکتا۔ دنیا میں خوراک پر سبسڈی دی جاتی ہے اور یہاں الٹا ٹیکس لگ رہا ہے۔ کنزیومر کو مرغی مقررہ ریٹ پر نہیں مل رہی جعلی لسٹیں ختم کی جائیں۔‘
مزیدپڑھیں:سرکاری کالجز میں نرسنگ تعلیم پر اہم حکومتی فیصلہ

یہ بھی پڑھیں