کراچی(نیوز ڈیسک) جنگ گروپ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے صدر سینیٹر سرمد علی کو گرین وچ یونیورسٹی کی جانب سے میڈیا انوویشن اور پبلک لیڈرشپ کے شعبے میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نواز دیا گیا۔ یہ اعزاز گورنر ہاؤس کراچی میں منعقدہ گرین وچ یونیورسٹی کے کانووکیشن کی تقریب میں دیا گیا۔
اعزازی ڈگری پاکستان کے میڈیا انڈسٹری میں سینیٹر سرمد علی کی نمایاں خدمات، میڈیا اداروں کے استحکام، اخلاقی صحافت کے فروغ اور مواصلاتی شعبے میں جدت کے اعتراف کے طور پر دی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ وہ اس اعزاز پر “دلی طور پر ممنون اور بے حد شکر گزار” ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز صرف ایک فرد کے سفر کا اعتراف نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی کی پہچان ہے جو ایک ایسے شعبے کے لیے وقف رہی جو خیالات، اداروں اور معاشروں کی تشکیل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز میڈیا اور کمیونیکیشن کے شعبے میں ان کی “معمولی سی کاوش” کا اعتراف ہے، جو آج ٹیکنالوجی، جمہوریت، ثقافت اور عوامی اعتماد کے سنگم پر کھڑا ہے۔
پاکستان کے میڈیا منظرنامے پر بات کرتے ہوئے سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو غیر معمولی تخلیقی صلاحیت، استقامت اور جرات سے عبارت ہے اور سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات اور سیکیورٹی خطرات کے باوجود اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایسے ماحول میں خدمات انجام دینا محض پیشہ نہیں بلکہ ایک اعزاز ہے۔”
انہوں نے اپنے اساتذہ اور ساتھیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بامعنی سفر تنہا طے نہیں ہوتا۔ انہوں نے جاوید جبار، سید نصیر حیدر، ایس ایچ ہاشمی، اقبال میر، حمید ہارون اور میر شکیل الرحمٰن سمیت اپنے سرپرستوں کی رہنمائی کو سراہا، جبکہ جنگ/جیو گروپ کے ساتھیوں کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ “کارکردگی ایک ٹیم ورک ہوتی ہے۔”
میڈیا قیادت کی اخلاقی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “دیانت کے بغیر جدت کھوکھلی ہے اور احتساب کے بغیر اثر و رسوخ خطرناک ہوتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ سچائی سے آگاہ کرنا، منصفانہ تنقید اور دیانت داری سے عوامی آوازوں کی نمائندگی میڈیا کی مقدس ذمہ داری ہے۔
پاکستان میں ابھرتی ہوئی نئی قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا ہے کہ نوجوان رہنما شمولیت، سفارتکاری، ماحولیاتی ذمہ داری اور جمہوری تسلسل کی زبان بول رہے ہیں۔ انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اس مثبت نسلی تبدیلی کی مثال قرار دیا۔
فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سرمد علی نے انہیں تلقین کی کہ وہ تبدیلی کو اپناتے ہوئے اخلاقیات کو اپنا رہنما بنائیں۔ مصنوعی ذہانت اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر یقینی صورتحال نوجوانوں کو مفلوج نہ کرے بلکہ انہیں موجودہ ماڈلز پر سوال اٹھانے، روایتی مفروضات کو چیلنج کرنے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے سانچوں کو توڑنے پر آمادہ کرے۔
کانووکیشن تقریب میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، گرین وچ یونیورسٹی کی چانسلر سیما مغل، اعلیٰ سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم، سفارتکار، طلبہ اور ان کے والدین نے شرکت کی۔




