اسلام آباد(ویب ڈیسک)مہنگی تعلیم اور محدود اسکالرشپس کے دور میں بیرونِ ملک پڑھنے کا خواب رکھنے والے پاکستانی نوجوانوں کے لیے روس میں مفت اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ایک اہم موقع سامنے آیا ہے۔
پاکستان میں روسی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی آف رشیا (RUDN University) کے زیرِ اہتمام اوپن اولمپیاڈ کی آن لائن رجسٹریشن کا آغاز ہو چکا ہے، جس میں پاکستانی طلبہ بھی حصہ لے سکتے ہیں۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے یہ موقع خاص اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر اُن نوجوانوں کے لیے جو بیرونِ ملک معیاری اور نسبتاً کم خرچ تعلیم کے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔
اس میں ہائی اسکول مکمل کرنے والے طلبہ، کالج سے فارغ التحصیل نوجوانوں اور یونیورسٹی کے آخری سال میں زیرِ تعلیم طلبہ شرکت کے اہل ہیں۔
خوشخبری! پاکستانی ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے روس میں تعلیم حاصل کرنے کا بہترین موقع!
روس کی پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی (رُودَن) کی جانب سے غیر ملکی طلبہ (جن کے پاس روسی شہریت نہیں) کے لیے اوپن اولمپیاڈ کے آن لائن مرحلے کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس میں… pic.twitter.com/yIDrkIb8mN— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) January 21, 2026
اس اوپن اولمپیاڈ کے ذریعے ان تمام امیدواروں کو اپنی تعلیمی صلاحیتیں آن لائن آزمانے کا موقع دیا جا رہا ہے، جس کی بنیاد پر وہ روس میں اعلیٰ تعلیم کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
روسی سفارت خانے کے مطابق، اس تعلیمی مقابلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے امیدواروں کو روسی حکومت کے تعلیمی کوٹے کے تحت ”آر یو ڈی این یونیورسٹی“ میں مکمل طور پر مفت تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
۔
ٹیسٹ میں اول آنے والے طلبہ کے تمام تعلیمی اخراجات روسی حکومت برداشت کرے گی، جبکہ دیگر امیدواروں کو فیس میں نمایاں رعایت دی جا سکتی ہے، اور دستیاب کوٹے کی صورت میں انہیں بھی مفت تعلیم کا موقع مل سکتا ہے۔
داخلے کے لیے امیدواروں کو سب سے پہلے آن لائن رجسٹریشن کرنا ہوگی، اس دوران انہیں اپنا پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ، تعلیمی اسناد، سرٹیفکیٹ، اور گزشتہ تعلیمی سال کے نمبرز یا گریڈز اپ لوڈ کرنا ہوں گے۔ ابتدائی مرحلے میں ایک آن لائن ٹیسٹ لیا جائے گا، جس میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو اگلے مرحلے میں انفرادی انٹرویو کے لیے بلایا جائے گا۔
۔
“آر یو ڈی این یونیورسٹی“ روس کی ایک معروف اور بین الاقوامی شہرت یافتہ درسگاہ ہے، جہاں دنیا بھر سے ہزاروں غیر ملکی طلبہ مختلف شعبوں، خصوصاً میڈیسن، انجینیئرنگ، سوشل سائنسز اور ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف پاکستان اور روس کے درمیان تعلیمی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے بلکہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی دینے کی ایک سنجیدہ کاوش بھی ہے۔
تعلیمی مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے مواقع پاکستانی نوجوانوں کے لیے مستقبل کے نئے امکانات پیدا کر سکتے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب ملک کی بڑی نوجوان آبادی عالمی سطح پر معیاری تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کے راستے تلاش کر رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:پی ایس ایل کی نئی فرنچائز ’سیالکوٹ‘ نے اپنے آفیشل نام کا اعلان کردیا



