Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

پاسپورٹ بنوانے والوں کے لئے بڑی خبر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاسپورٹ کی درخواستوں کی جدید ترین مانیٹرنگ کے لیے ” شکرا” کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا، نئے نظام میں اپلائی ہونے سے ڈیلیوری تک ہر مرحلے پر نگرانی کی جا سکے گی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا دورہ کیا ، جہاں پاسپورٹس کی درخواستوں، پرنٹنگ اور کارکردگی کے جدید ترین مانیٹرنگ نظام ” شکرا” کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

اس موقع پر محسن نقوی نے کہا پاکستان پاسپورٹ سسٹم کو اب دنیا کے بہترین ممالک کے نظام کے مطابق ڈھال دیا گیا ہے ، نئے نظام سےپاکستان و دنیا بھر میں پاسپورٹ درخواستوں اور ڈیلیوری کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی ممکن ہو گی، پاسپورٹ کے اپلائی ہونے سے ڈیلیوری تک ہر مرحلے پر نگرانی کی جا سکے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد شہریوں کو عالمی معیار کی تیز رفتار اور محفوظ خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے، مانیٹرنگ کے جدید نظام سے محکمہ پاسپورٹس کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ کے سیکورٹی فیچرز کو آئی سی اے او سٹینڈرڈز کے مطابق بنایا گیا ہے، جدید آٹومیٹک جرمن مشینوں سے محکمے کی استعدادکار میں اضافہ ہوا ہے، آٹومیٹک مشینوں سے پاسپورٹ پرنٹنگ پراسیس سے انسانی مداخلت کو مکمل ختم کر دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ نے ای مانیٹرنگ روم ، کال سینٹر، فرانزک لیب اور جدید پروڈکشن یونٹ کا دورہ کیا، ان کو بریفنگ میں بتایا گیا ڈیجیٹل اینٹگریٹڈ ڈیش بورڈ سے ڈیلی آپریشنز و تمام سٹاف کی کارکردگی کی مانیٹرنگ اور ایولیوشن ہوگی، نئے مانیٹرنگ سسٹم کے تحت پاسپورٹ دفاتر میں رش کی بھی خودکار نشاندہی کی جا سکے گی۔

بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ نیٹ ورک میجمنٹ سسٹم کے تحت بیک لاگ اور مشینری سٹیٹس بھی مانیٹر ہوگا۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں 24/7 مانیٹرنگ روم اور کال سنٹر بھی فعال کردیا گیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے نظام کو بھی ڈیجیٹل کر دیا گیا، وزیرداخلہ کو سیکوئر ہائبریڈ انٹیلیجنس فار نالج بینڈ ریسپونس انالیٹکس(شکرا) سسٹم کے بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

محسن نقوی نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے پر ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
مزیدپڑھیں:شاہد آفریدی آئی سی سی کے دہرے معیار پر برس پڑے

یہ بھی پڑھیں