Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

گوجر خان: جی ٹی روڈ پر تجاوزات اور ٹریفک دباؤ،2سال میں 300 حادثات

گوجر خان ( نمائندہ خصوصی )گوجر خان جی ٹی روڈ(این ۔5) پرتجاوزات کی بھرمار ، دو برس میں 3سو حادثات ، فوری طور پر آپریشن ضروری ۔شہر سے گزرنے والی جی ٹی روڈ ریلوے پل سے گلیانہ موڑ تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کا یہ حصہ تجاوزات،بے ہنگم ٹریفک اور غیر منظم پارکنگ کی وجہ سے شہریوں کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے ۔ جہاں دو برس میں تین سوحادثات صورتحال کی سنگینی کا اظہار ہیں۔ ان حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ، متعدد خاندان معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہوئے، لیکن ابھی تک اصلاح احوال کی کوئی کوشش شروع نہیں ہو سکی ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی اصل گنجائش کے مقابلے میں ٹریفک کا بوجھ کئی گنا بڑھ چکا ہے ، دکانوں، ریڑھیوں، غیر قانونی پارکنگ اور بعض سرکاری عمارتوں سے منسلک رکاوٹوں نے گزرگاہ کو مزید تنگ کر دیاہے ، جس کی وجہ سے یہ قومی شاہراہ موت کا پھندہ بن چکی ہے ۔ گوجر خان صوبے کی سب سے بڑی تحصیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مردم خیز خطہ ہے ، جہاں سے بہت بڑی تعدادمیں لوگ اہم فوجی عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، جبکہ سابق وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف ، راجہ جاوید اخلاص ، چوھدری ریاض اور شوکت بھٹی جیسے اہم سیاسی راہنما بھی اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں ، ملک کے شمالی اور جنوبی حصوں کو ملانے اور کشمیر کے لئے اہم رابطہ کی وجہ سے اس کی سٹریٹجک اور تجارتی اہمیت بھی ہے ۔ یہاں تجاوزات ،ٹریفک جام اور حادثات انتہائی خطرناک ہیں ، جس سے پوٹھو ہار کےا س اہم ترین تجارتی مرکز میں کاروباری سرگرمیوں، شہری نقل و حرکت اور ہنگامی خدمات تک رسائی بھی مشکل ہو رہی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلا تفریق تجاوزات کا فوری خاتمہ کرتے ہوئے ، ٹریفک کی منظم روانی اور مناسب پارکنگ کے انتظامات کئے جائیں ، زیر غور انڈر پاس اور سروس روڈ کے منصوبوں کو جلدمکمل کیا جائے تاکہ مرکزی شاہراہ پر دباؤ کم ہو سکے۔مقامی سماجی اور کاروباری نمائندوں نے صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ پنجاب،نیشنل ہائی وے اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مربوط آپریشن کے ذریعے تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔تاجر برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ رضاکارانہ طور پر تجاوزات ختم کریں تاکہ شہر کو محفوظ، منظم اور خوبصورت بنایا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:جنگ ٹل گئی؟ امریکا، ایران رواں ہفتے مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار؛ کون ثالث ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں