Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وزیراعظم یوتھ لون پروگرام: ریکارڈ درخواستیں موصول، قرض کب ملے گا؟ اعلان ہوگیا

مظفرآباد(ویب ڈیسک)آزاد جموں و کشمیر میں نوجوانوں کے لیے حکومت نے بڑا اقدام کرتے ہوئے وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کے تحت بلاسود قرضہ جات کے حصول کے لیے 35 ہزار درخواستیں موصول کی ہیں۔

اسمال انڈسٹریز کارپوریشن کے مطابق اس سکیم کے تحت ضلعی آبادی، صنفی تناسب اور اسٹیٹ بینک کی پالیسی کے مطابق شفاف انداز میں قرضہ جات جاری کیے جائیں گے تاکہ آزادکشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کو بر سرِروزگار اور معاشی سرگرمیوں میں شریک کیا جا سکے۔

وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کے تحت بلاسود قرضوں کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے کی خطیر رقم سے ترقیاتی سکیم منظور کی گئی ہے۔ اس پروگرام میں نوجوانوں کی غیر معمولی دلچسپی سامنے آئی ہے اور مقررہ مدت میں ریکارڈ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

آزاد سمال انڈسٹریز کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سوشل میڈیا پر یوتھ لون پروگرام سے متعلق رپورٹس کے تناظر میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ منصوبہ کابینہ کمیٹی کی سفارشات، آزادکشمیر کابینہ کی ترقیاتی کمیٹی اور کابینہ کی باقاعدہ منظوری کے بعد منظور کیا گیا ہے۔

وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کا بنیادی مقصد آزادکشمیر کے نوجوانوں کو بلاسود قرضہ جات فراہم کر کے انہیں کاروبار کے مواقع دینا اور خود روزگاری کی طرف راغب کرنا ہے۔

اس منصوبے کے تحت بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے ذریعے قرضہ جات کی فراہمی کے لیے 10 دسمبر 2025 کو اخبارات میں اشتہار جاری کیا گیا جبکہ درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 20 جنوری 2026 مقرر تھی۔

محکمہ کے مطابق آزادکشمیر کے تمام اضلاع سے آن لائن اور دستی طور پر مجموعی طور پر 35 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جو نوجوانوں کے اعتماد اور اس سکیم کی افادیت کو واضح کرتی ہیں۔ موصولہ درخواستوں کی ابتدائی سکروٹنی کا عمل جاری ہے اور مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والے امیدواروں کے فارم 20 فروری 2026 تک بینک آف آزاد جموں و کشمیر کو فنانسنگ کے لیے ارسال کیے جائیں گے۔

درخواست فارم کی پنجاب طرز پر فیس مقرر کی گئی تھی۔ بینک آف آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے دستاویزی کارروائی، بزنس سائٹ وزٹ اور ٹیکنیکل و فنانشل اپریزل کے بعد اہل درخواست گزاروں کو مارچ 2026 کے اوائل میں بلاسود قرضہ جات کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔
18مزید پڑھیں:ویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، اتفاق رائے سے تبدیلی ممکن ہے: رانا ثنااللہ

یہ بھی پڑھیں