اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گلگت/سکردو (نیوز ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے رفقا کی شہادت کی خبر کے بعد گلگت بلتستان میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے جو بعد ازاں پرتشدد صورت اختیار کر گئے۔
تفصیلات کے مطابق مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکار سمیت مجموعی طور پر 14 افراد جاں بحق جبکہ 59 افراد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق جاں بحق افراد میں سے سات کا تعلق گلگت جبکہ سات کا تعلق سکردو سے ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
مظاہروں کے دوران گلگت میں اقوام متحدہ کے دفتر کو آگ لگا دی گئی، جبکہ سکردو میں بھی اقوام متحدہ کے دفتر، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے ریجنل دفتر اور آرمی پبلک اسکول کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ سکردو میں 22 گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
صورتحال کے پیش نظر پیر کے روز گلگت اور بلتستان ریجن میں تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ گلگت میں جامعہ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ چیف کورٹ اور اس کے ماتحت عدالتیں بھی پیر کے روز بند رہیں گی۔
حکام کے مطابق سکردو میں حالات قابو میں رکھنے کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے اور شہر میں کرفیو جیسی صورتحال ہے۔ اہم مقامات پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ انتظامیہ نے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا،ایران کا دعویٰ
