اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے ایرانی سفارتخانے میں تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے اور ایران پر امریکی و صہیونی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صہیونیت اور یورپ کے گٹھ جوڑ نے پہلے فلسطین پر قبضہ کیا اور آج بھی خطہ شدید تناؤ اور طویل جنگی صورتحال سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کی مضبوط حمایت کے باعث ایران کے خلاف جنگ کی نئی قسط شروع کی گئی اور بے بنیاد الزامات لگا کر حملوں کو جواز فراہم کیا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت صرف اپنا نہیں بلکہ فلسطین کا بھی دفاع کر رہا ہے اور مشکل وقت میں امت مسلمہ کو ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کو باہمی اتحاد کی ضرورت ہے اور امت مسلمہ کو آپس میں دست و گریباں ہونے کے بجائے صہیونیت کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے امریکہ کو انسانیت کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی قاتلوں کی قیادت میں امن کی کوششیں امن کے نام پر دھبہ ہیں جبکہ ٹرمپ جیسے افراد سے امن کی امید رکھنا بھی سوالیہ نشان ہے۔
اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاک ایران تعلقات کے فروغ میں مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد ہمارے لیے باعث اطمینان ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر فتح عالم اسلام کی ہوگی۔
مزیدپڑھیں:پی ٹی آئی رہنما کی ضمانت درخواستوں پر سماعت، اہم تفصیلات




