Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

پٹرولیم بحران کا خدشہ، پمپ مالکان کا سپلائی نہ ملنے کا دعویٰ

اسلام آباد ( نیوزڈیسک) ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کے خدشات بڑھنے لگے ہیں جبکہ پمپ مالکان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ تین روز سے انہیں ایندھن کی باقاعدہ سپلائی فراہم نہیں کی جا رہی۔

ذرائع کے مطابق حکومت، اوگرا، وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں 25 سے 28 دن کا ایندھن کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم پٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر سپلائی میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ ان کے مطابق پمپوں کی روزانہ طلب میں تقریباً 50 فیصد تک کٹوتی کر دی گئی ہے جبکہ دیے گئے آرڈرز کی ترسیل میں بھی دو سے تین روز کی تاخیر ہو رہی ہے۔

پمپ مالکان نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) پر ذخیرہ اندوزی اور دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنیاں متوقع قیمتوں میں اضافے کے انتظار میں تیل روک کر بیٹھی ہیں۔ مزید یہ کہ پٹرول کی فراہمی کے ساتھ پمپ مالکان کو بھاری مقدار میں انجن آئل (لیوبریکینٹس) خریدنے کی شرط بھی عائد کی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر 8000 لیٹر پٹرول کے حصول کے لیے 800 لیٹر لیوبریکینٹ خریدنے کا کہا جا رہا ہے جبکہ معاہدے کے مطابق ماہانہ ضرورت اس سے کہیں کم ہے، جس سے پمپ مالکان کو فی لیٹر 200 سے 250 روپے تک نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ادھر عالمی صورتحال بھی اس بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔

پمپ مالکان نے وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سپلائی فوری بحال نہ ہوئی تو آئندہ چند روز میں صورتحال سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام پہلے ہی پمپ مالکان کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے جس کے باعث پٹرول پمپس پر جھگڑوں اور توڑ پھوڑ کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سندھ میں رواں برس پولیو کا پہلا کیس سامنے آگیا،الرٹ جاری

یہ بھی پڑھیں