سوشل میڈیا پر پرچہ لیک کرنا جرم قرار دینے کے بعد پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے طلبہ کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔
حکام کے مطابق واٹس ایپ، فیس بک یا ایکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر امتحانی پرچہ شیئر کرنا سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔
تعلیمی بورڈز نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پرچہ لیک کرنا جرم قرار دینے کا اطلاق میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات کے دوران مکمل طور پر کیا جائے گا، جو اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے ہیں۔
بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی طالب علم سوالیہ پرچہ آن لائن شیئر کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف پولیس مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن راولپنڈی کے ترجمان کے مطابق یہ عمل پنجاب یونیورسٹی اور بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مال پریکٹسز ایکٹ 1950 کے تحت قابل سزا ہے۔
اس قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے پر تین سال تک قید اور پچاس ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
حکام نے کہا کہ ماضی میں امتحانات کے دوران پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر پرچہ لیک کرنا جرم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
امتحانی مراکز میں موبائل فون لانے پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
طلبہ کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ سوالیہ پرچوں کی تصاویر لینا یا ویڈیو بنا کر آن لائن شیئر کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
تعلیمی بورڈز کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امتحانی نظام کی شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے۔
طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ امتحانی قواعد پر عمل کریں اور کسی بھی ایسے عمل سے گریز کریں جو سوشل میڈیا پر پرچہ لیک کرنا جرم قرار دینے والے قانون کی خلاف ورزی ہو۔



