اسلام آباد(ویب ڈیسک)سابق وزیر اعظم عمران خان کو ان کی خراب آنکھ کے علاج کے سلسلے میں پیر کے روز اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز میں تیسرے طبی عمل کے لایا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹریئل انجیکشن کی تیسری خوراک لگانے کے لیے پمز لایا گیا۔اسپتال انتظامیہ نے بتایا ہے کہ طبی عمل سے پہلے، دورانِ عمل اور بعد میں عمران خان کی حالت مستحکم رہی۔پمز کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کو اسپتال اس لیے منتقل کیا گیا کیونکہ تیسرا انجیکشن مقررہ وقت پر لگانا ضروری تھا۔مریض کی باخبر رضامندی حاصل کرنے کے بعد، آپریشن تھیٹر میں تمام احتیاطی تدابیر اور معیاری پروٹوکول کے تحت، مائیکروسکوپی کی رہنمائی میں سرجنز نے انجیکشن لگایا۔ڈاکٹر کے مطابق انجیکشن کے بعد انہیں کچھ دیر نگرانی میں رکھا گیا تاکہ ان کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے، جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ انجیکشن آنکھ کے اندرونی حصے میں دیا گیا۔انہوں نے وضاحت کی کہ عموماً اس طرح کے کیسز میں 3 انجیکشن دیے جاتے ہیں، اس لیے چوتھے انجیکشن کا امکان کم ہے۔تاہم، انجیکشن کے اثرات 4 ہفتوں بعد جانچے جاتے ہیں، جس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ مزید خوراک کی ضرورت ہے یا نہیں۔عمران خان کی آنکھ کی بیماری ‘رائٹ سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن’ جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی۔
ان کا پہلا طبی عمل 24 جنوری کو کیا گیا تھا، جس کی تصدیق حکومت نے میڈیا رپورٹس کے 5 دن بعد کی۔بعد ازاں عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ دورانِ حراست سابق وزیرِاعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی کافی حد تک متاثر ہوئی ہے۔15 فروری کو 5 رکنی میڈیکل ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا ابتدائی معائنہ کیا تھا، جبکہ 24 فروری کو انہیں فالو اپ کے لیے پمز لایا گیا، جہاں انہیں اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔اپوزیشن حکومت پر شفافیت نہ برتنے، مناسب علاج فراہم نہ کرنے اور عمران خان کے ذاتی معالجین تک رسائی نہ دینے کا الزام عائد کررہی ہے، جسے حکومت مسترد کرتی رہی ہے۔
1999 مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ کا فائنل وسیم اکرم کے غلط فیصلے کی وجہ سے ہارے : سابق قومی کرکٹر اعجاز احمد

