پاکستان دنیا کا سب سے آلودہ ملک 2025 بن گیا ہے، نئی عالمی رپورٹ نے تشویشناک صورتحال ظاہر کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق باریک ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار انتہائی زیادہ رہی۔ یہ ذرات انسانی صحت کے لیے نہایت نقصان دہ ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
پاکستان میں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 67.3 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق محفوظ حد صرف 5 مائیکروگرام ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں آلودگی عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ رہی۔ تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ آلودگی قبل از وقت پیدائش اور خطرناک بیماریوں جیسے دماغی امراض، پارکنسن اور الزائمر کا سبب بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں بنگلہ دیش اور تاجکستان کو دوسرے اور تیسرے نمبر پر رکھا گیا جبکہ چاڈ چوتھے نمبر پر آ گیا۔
شہروں میں بھارت کا شہر لونی سب سے زیادہ آلودہ قرار دیا گیا۔ دنیا کے زیادہ تر آلودہ شہر جنوبی ایشیا اور چین میں واقع ہیں۔
عالمی سطح پر صرف چند ممالک ہی صاف فضا کے معیار پر پورا اتر سکے۔ موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات میں آگ بھی آلودگی بڑھنے کی بڑی وجہ بنی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری اقدامات اور پالیسی سازی کے بغیر صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔


