Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

نو کنگز احتجاج امریکہ: ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں ہزاروں مظاہرے

نو کنگز احتجاج امریکہ

امریکا میں نو کنگز احتجاج امریکہ کے تحت ہفتہ کے روز ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق ملک کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد مظاہرے ہوں گے۔

یہ مظاہرے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا پرامن احتجاج بن سکتا ہے۔

بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے علاقوں میں بھی سرگرمی

اہم مظاہرے نیو یارک، لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور منی سوٹا کے شہروں میں ہوں گے۔

لیکن نو کنگز احتجاج امریکہ کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے شریک ہوں گے۔ اس سے سیاسی شعور میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

منتظمین کا مؤقف

یہ تحریک انڈیویزیبل نامی تنظیم نے شروع کی۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی اصل اہمیت اس کے پھیلاؤ میں ہے۔

آئیڈاہو، وائیومنگ، مونٹانا اور یوٹاہ جیسی ریاستوں میں بھی شرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انتخابات سے پہلے سیاسی سرگرمی میں اضافہ

آنے والے وسط مدتی انتخابات کے باعث عوامی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر وہ علاقے جہاں انتخابات کے نتائج کا فیصلہ ہوتا ہے، وہاں سرگرمی زیادہ ہے۔

منتظمین کے مطابق ووٹرز اب کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

حکومتی ردعمل اور ماضی کے مظاہرے

وائٹ ہاؤس نے ان مظاہروں کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اہمیت کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ نو کنگز احتجاج امریکہ کا تیسرا بڑا مرحلہ ہے۔ اس سے پہلے لاکھوں افراد مختلف شہروں میں شرکت کر چکے ہیں۔

بین الاقوامی صورتحال کا اثر

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ ایسے احتجاج پہلے بھی حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں