Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

ایف آئی اے کا مجرموں کی شناخت کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف

ایف آئی اے مصنوعی ذہانت نظام مجرموں کی شناخت

ایف آئی اے مصنوعی ذہانت نظام مجرموں کی شناخت پاکستان میں متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے ذریعے مفرور ملزمان کو فوری طور پر پہچانا جا سکے گا۔ اس اقدام کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

حکام کے مطابق یہ جدید نظام مصنوعی ذہانت کے ذریعے پرانی تصاویر سے ملزمان کی نئی شکل تیار کرتا ہے۔ اس سے ایسے افراد کو بھی شناخت کیا جا سکتا ہے جو اپنی ظاہری شکل تبدیل کر لیتے ہیں۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انور نے بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی پرانی تصاویر کو جدید شکل میں تبدیل کر کے ملزمان کی شناخت ممکن بناتی ہے، چاہے وہ داڑھی رکھ لیں یا سر منڈوا لیں۔

یہ اقدام روایتی ریڈ بک کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کا حصہ ہے، جس سے مجرموں کی تلاش اور نگرانی میں آسانی ہوگی۔

نئے ڈیجیٹل نظام میں ملزمان کی تفصیلی معلومات شامل ہیں، جن میں خاندان، ساتھی افراد، شناختی کارڈ، پاسپورٹ، موبائل نمبر اور بینک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مقدمات کی تفصیلات، عدالتی حیثیت اور نمایاں جسمانی خصوصیات بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں، جس سے تحقیقات میں مدد ملے گی۔

یہ نظام انسانی اسمگلروں کے طریقہ کار، راستوں اور آخری معلوم مقام کو بھی ریکارڈ کرتا ہے۔

حکام کے مطابق اس وقت اس ڈیٹا بیس میں 143 مشتبہ انسانی اسمگلروں کے نام شامل ہیں۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ جدید نظام مفرور ملزمان کے لیے چھپنا مشکل بنا دے گا اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنائے گا۔

یہ بھی پڑھیں