پاکستان کی ڈیجیٹل سفارتکاری نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی ہے اور ملک کے بین الاقوامی اثر و رسوخ کو اجاگر کیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان کی ٹیکنالوجی اور سفارتکاری کے ذریعے عالمی تعلقات مضبوط کرنے کی کامیابیوں کی رپورٹنگ شروع کردی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی قیادت کی تعریف نے دو طرفہ تعلقات کے ذاتی اور اسٹریٹجک پہلو کو اجاگر کیا۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے عالمی اہم شخصیات سے تعلقات نے واشنگٹن میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی دفاعی تجزیہ کار کرسٹین فیئر کے مطابق پاکستان کے کئی طیارے گرانے کے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی رسائی کے پیچھے بلال بن ثاقب نے مرکزی کردار ادا کیا۔
سال 2025 میں بلال بن ثاقب نے عالمی کرپٹو شخصیات جیسے بائننس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ، کیتھی ووڈ اور مائیکل سیلر سے مضبوط تعلقات قائم کیے۔ بعد میں وہ ٹرمپ کے کرپٹو منصوبے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے مشیر بنے، جو پاکستان کے لیے اہم کامیابی ثابت ہوئی۔
ایک بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے کرپٹو سفارتکاری کے ذریعے وائٹ ہاؤس کے ساتھ اعتماد سازی کو فروغ دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی قومی سفارتکاری میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔


