Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کا رجحان، مہنگے پٹرول اور قلت کے خدشات میں اضافہ

الیکٹرک موٹر سائیکل

پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور قلت کے خدشات نے عوام کو متبادل ذرائع کی طرف مائل کر دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے، جس پر پاکستان کا زیادہ انحصار ہے۔

اس صورتحال نے پٹرول کی دستیابی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے بعد شہری الیکٹرک بائیکس کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ مارچ کے دوران الیکٹرک بائیکس کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان میں زیادہ تر تیل درآمد کیا جاتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر مقامی مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے۔

ملک میں تقریباً 40 فیصد پٹرول موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں استعمال ہوتا ہے، کیونکہ کاریں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ ناکافی ہے۔

کم آمدنی والے افراد کے لیے روزانہ سفر مہنگا ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ متبادل حل تلاش کر رہے ہیں۔

الیکٹرک موٹر سائیکلیں کم خرچ ہونے کی وجہ سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں، کیونکہ انہیں چارج کرنا پٹرول کے مقابلے میں سستا پڑتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال الیکٹرک بائیکس کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا اور اب یہ مارکیٹ کا اہم حصہ بن رہی ہیں۔

حکومت نے بھی اس رجحان کو فروغ دینے کے لیے پالیسی متعارف کروائی ہے جس کے تحت سبسڈی اور بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اس اسکیم میں درخواستوں کی بڑی تعداد موصول ہوئی ہے، جو عوامی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔

سولر توانائی کا بڑھتا ہوا استعمال بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ لوگ گھروں پر کم خرچ میں بائیکس چارج کر سکتے ہیں۔

تاہم، چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے زیادہ ابتدائی قیمت، چارجنگ اسٹیشنز کی کمی، اور سروس نیٹ ورک کا محدود ہونا۔

اس کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کا رجحان مزید تیزی سے بڑھے گا۔

یہ بھی پڑھیں