پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے شہریوں کو جعلی اور غیر قانونی سمز (Illegal SIMs)کے اجرا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اہم ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق شہری کسی بھی صورت چوک چوراہوں، بازاروں یا غیر مجاز مقامات سے مفت یا غیر تصدیق شدہ سمز حاصل نہ کریں۔ نئی سم صرف موبائل کمپنی کے کسٹمر سروس سینٹر یا باقاعدہ فرنچائز سے ہی حاصل کی جائے۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ بعض عناصر مفت سم کے لالچ میں شہریوں سے بائیو میٹرک تصدیق کرواتے ہیں، جس کے بعد ان کے شناختی کارڈ پر غیر قانونی سمز بھی رجسٹر ہو سکتی ہیں، جو بعد میں فراڈ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاسداران انقلاب کی آبنائے ہرمز میں خلاف ورزی پر بھارتی آئل ٹینکر پر فائرنگ
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ہر شہری اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے شناختی کارڈ پر کوئی اضافی سم جاری نہ ہو۔ اس کے ساتھ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے نام پر رجسٹرڈ غیر استعمال شدہ یا اضافی سمز فوری طور پر بلاک کروائیں۔


