بین الاقوامی میری ٹائم سیکیورٹی اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب(Revolutionary Guards) سے منسوب دو گن بوٹس کی جانب سے ایک آئل ٹینکر پر فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق یہ واقعہ عمان کے شمال مشرق میں تقریباً 20 ناٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا، تاہم آئل ٹینکر اور اس کا عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب شپنگ مانیٹرنگ گروپ ٹینکر ٹریکر کا کہنا ہے کہ دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ایک بھارتی پرچم بردار سپر ٹینکر بھی شامل تھا، اور انہیں واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک بڑا خام تیل بردار جہاز، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لے جا رہا تھا، بھی اس صورتحال سے متاثر ہوا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کم از کم دو تجارتی جہازوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کے دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔
مزیدپڑھیں:جنگ بندی میں شاید توسیع نہ کروں بدقسمتی سے بم دوبارہ گرانا پڑے گا، ٹرمپ
اسی دوران کچھ جہازوں کو ریڈیو پیغامات موصول ہوئے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکی اقدامات کے باعث ناکہ بندی جاری رہی تو اس آبی گزرگاہ کو غیر مؤثر تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایرانی بندرگاہوں پر بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال نہیں ہوتی، آبنائے ہرمز مسلح افواج کے سخت کنٹرول میں رہے گی۔
انہوں نے امریکی اقدامات کو “بحری قزاقی” اور “غیرقانونی عمل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بحری صورتحال مکمل طور پر سیکیورٹی کنٹرول کے تحت ہے۔
