Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

خیبرپختونخو اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر و اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا اسمبلی(Khyber Pakhtunkhwa Assembly) میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق اہم آئینی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اس عمل کو فنانس کمیٹی کی منظوری کے بغیر کرنے کو آئین سے متصادم قرار دینے کے بعد ترمیمی ایکٹ تیار کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ماضی میں تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ایک باقاعدہ ایکٹ کے ذریعے کیا جاتا تھا اور اس کی منظوری ایوان سے لی جاتی تھی، تاہم حالیہ جائزے میں یہ نکتہ سامنے آیا کہ یہ طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 88 اور آرٹیکل 127 سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان آئینی شقوں کے تحت اسمبلی کے مالی معاملات، بشمول اخراجات، فنانس کمیٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ تنخواہیں اور الاؤنسز بھی مالیاتی امور میں شامل ہوتے ہیں، اس لیے ان کا تعین بھی فنانس کمیٹی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اسی قانونی تشریح کے بعد موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی گئی اور نئے ترمیمی مسودے کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

اس ضمن میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں، مراعات اور استحقاق سے متعلق 1975 کے ایکٹ میں ترمیم تیار کی گئی ہے، جسے آج اسمبلی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

مزیدپڑھیں:وفاقی وزراء اور مشیروں نے رواں سال تنخواہوں اور الاؤنس کی مد میں کتنے کروڑ روپے وصول کئے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

مجوزہ ترمیم کے مطابق اب تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا اختیار براہِ راست فنانس کمیٹی کے پاس ہوگا، جو آئینی تقاضوں کے مطابق اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔ اس کے بعد اس ترمیمی ایکٹ کو منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کو بھجوایا جائے گا۔

سیاسی اور آئینی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مالی شفافیت اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مستقبل میں ایسے معاملات کو واضح قانونی دائرہ کار میں لانے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں