فیڈرل بورڈ آف ریونیو(FBR) نے پرانے اور استعمال شدہ موبائل فونز کی کسٹم ویلیو میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد سستے اسمارٹ فونز تک رسائی کم آمدنی والے طبقے کے لیے مزید مشکل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے نئی valuation ruling جاری کرتے ہوئے پرانی قیمتوں کو فوری طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد کمرشل بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے استعمال شدہ موبائل فونز مہنگے ہو جائیں گے۔
حکام کے مطابق 62 مختلف موبائل فون ماڈلز کی نئی کسٹم ویلیو مقرر کی گئی ہے، جن میں سب سے زیادہ اضافہ گوگل پکسل 5، گوگل پکسل 6 اور گوگل پکسل 6 اے کی قیمتوں میں دیکھا گیا، جہاں 161 سے 194 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کے نتیجے میں نہ صرف درآمدی لاگت بڑھے گی بلکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے تحت عائد ٹیکسز بھی زیادہ ہوں گے، جس کا براہِ راست اثر صارفین پر پڑے گا۔
اسی طرح سام سنگ کے گلیکسی S21، S22 اور S10 سیریز سمیت مڈ رینج فونز کی ویلیو میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ایپل کے مختلف ماڈلز، خصوصاً پرانے آئی فونز اور SE سیریز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ البتہ نئے فلیگ شپ ماڈلز میں نسبتاً کم اضافہ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق نئی ویلیو ایشن کا اطلاق خاص طور پر ان فونز پر ہوگا جو کمرشل بنیادوں پر درآمد کیے جاتے ہیں، اور اس کا مقصد کسٹم ڈیوٹی کو موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں استعمال شدہ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں اچانک اضافہ متوقع ہے، جس سے عام صارفین کے لیے معیاری اور سستے موبائل فونز خریدنا مزید مشکل ہو جائے گا۔




