Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

گاڑیوں کی امپورٹ کے لیے سخت ترین طریقہ، نان فائلرز کے لئے اہم خبر

یکم جولائی سے پاکستان (pakistan)میں گاڑیوں کی درآمد کے نظام میں بڑی تبدیلیاں نافذ ہونے جا رہی ہیں، جنہیں بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے حتمی شکل دے دی ہے۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کے ذرائع کے مطابق نئے قواعد کے بعد گاڑیوں کی درآمد صرف اُن اداروں اور کمپنیوں تک محدود ہو جائے گی جو باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہوں اور ٹیکس نیٹ کا حصہ ہوں۔ اب کوئی بھی انفرادی شخص یا غیر رجسٹرڈ کاروباری یونٹ گاڑی درآمد نہیں کر سکے گا۔

نئے نظام کے تحت صرف وہ کمپنیاں گاڑی منگوا سکیں گی جو متعلقہ کمپنی قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہوں اور ان کے پاس فعال ٹیکس نمبر موجود ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازم ہوگا کہ درآمد کی جانے والی گاڑی کے لیے ملک میں مکمل بعد از فروخت سروس نیٹ ورک موجود ہو، ورنہ اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزید یہ کہ کمرشل امپورٹرز کو اس بات کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ ان کے پاس اصل اسپیئر پارٹس، تربیت یافتہ عملہ اور جدید ڈائیگناسٹک سہولیات موجود ہیں تاکہ گاڑیوں کی مرمت اور تکنیکی مسائل فوری حل کیے جا سکیں۔

حکومت نے عالمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شرط بھی لازمی قرار دی ہے کہ صرف وہی گاڑیاں درآمد کی جائیں گی جو بین الاقوامی سیفٹی اور ماحولیاتی معیار پر پوری اترتی ہوں۔ درآمد سے قبل متعلقہ گاڑی کے ماحولیاتی سرٹیفکیٹ اور معیار کی تصدیق جمع کرانا ہوگی، جبکہ پاکستان پہنچنے کے بعد فٹنس اور کوالٹی ٹیسٹنگ بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید کمی

پرانے استعمال شدہ گاڑیوں کے لیے مزید سختی کرتے ہوئے انجن نمبر، چیسز نمبر اور مکمل شناختی ڈیٹا کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنا بھی لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ ان امپورٹرز کو انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ میں رجسٹریشن بھی کرانا ہوگی۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ نان فائلرز کو گاڑیوں کی درآمد کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جا سکے اور غیر رسمی معیشت کو کم کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد پاکستان میں غیر معیاری گاڑیوں کی آمد کو روکنا، صارفین کو بہتر سروسز فراہم کرنا اور مجموعی طور پر آٹو سیکٹر کو زیادہ منظم اور شفاف بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مقامی آٹو انڈسٹری کو فروغ ملنے کی توقع ہے، تاہم درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں