حکومتِ پنجاب نے جائیداد کے لین دین کے نظام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے روایتی “فرد برائے بیع” کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد پراپرٹی ٹرانزیکشنز میں شفافیت اور جدیدیت کو فروغ دینا ہے۔
Punjab Land Records Authority کے چیئرمین طارق سبحانی کے مطابق اب صوبے میں جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے “گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ” کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے نظام کے تحت یکم جولائی سے بغیر اس سرٹیفکیٹ کے کوئی بھی پراپرٹی ٹرانزیکشن ممکن نہیں ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جعلسازی، دوہرے ریکارڈ اور فراڈ جیسے مسائل کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ شہریوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد لین دین کی سہولت فراہم کرے گا۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے جائیداد کی ملکیت، قانونی حیثیت اور دیگر اہم تفصیلات ایک ہی دستاویز میں واضح طور پر دستیاب ہوں گی۔
مزیدپڑھیں:سولر لائسنسنگ کے معاملے پر صارفین پریشان، نیپرا نے صورتحال واضح کر دی
چیئرمین پی ایل آر اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ بروقت اس نئے نظام کا حصہ بنیں اور اپنی جائیداد کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کریں تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام صوبے میں پراپرٹی سیکٹر کو ڈیجیٹلائز کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی مزید مستحکم ہوں گے۔


